
ڈاکٹر احمدي نژاد کے ساتھ سپين کے نئے سفير کي ملاقات:
وہ دور ختم ہو چکا ہے جب چند اقليتتں دوسروں کو اپنا مطيع بنا کر ان پر حکمراني کرتےتھے
ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ دنيا ميں امن اور عدل و انصاف برقرار کرنے کيلئے تمام ممالک کي مشارکت لازمي ہے اور اب وہ دور ختم ہو چکا ہے جب چند اقليتيں دوسروں کو اپنا مطيع بنا کر ان پر حکمراني کرتےتھے۔
صدرِ مملکت نے سپين کے نئے سفير کے ساتھ ملاقات کے دوران اس بات پر زور ديا کہ دونوں ممالک کے درميان روابط کو مزيد بڑھانے ميں کوئي منفي پہلو نہيں ہے اوراس سلسلے ميں تمام ممکنہ مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہيےکيونکہ ہماري خارجہ پاليسي يہي ہے کہ ہم سپين سميت تمام ممالک کے ساتھ روابط کو فروغ دينا چاہتے ہيں، انہوں نے کہا کہ جنگ ہر گز مشکلات اور مسائل کا حل نہيں ہے ليکن آمريکا اور يورپي ممالک کےاقتصادي مشکلات نے عوام کي زندگي کو اجيرن بنا ديا ہے
دشمن عناصرکي ہميشہ يہ پاليسي رہي ہے کہ وہ جنگ کے ذريعہ اپنے مشکلات اور مسائل پر پردہ ڈالنے کي کوشش کرتے ہيں ليکن جنگ کبھي بھي مسائل کا حل نہيں ہے بلکہ آج وقت کا تقاضا يہ ہے کہ سب مل بيٹھ کر افہام و تفہيم سے مسائل کا حل نکالے، انہوں نے مزيد کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران تمام ممالک کيلئے ترقي اور امن و سکون کا خواہاں ہے اور بعض ممالک کے حکمرانوں کا غلط رويہ باعث نہيں بنتا کہ انکے عوام کے متعلق بھي ہمارا نظريہ منفي ہو جائے۔
سپين کے نئے سفير نے ڈاکٹر احمدي نژاد کو اپنے سرکاري اسناد پيش کرتے ہوئے کہا کہ ايراني مہذب اور متمدن قوم ہيں اور عرصہ دراز سے ہمارے درميان قريبي اور دوستانہ روابط ہيں جو گذشتہ چند دہائيوں سے مزيد مستحکم ہوئے ہيں اور ہماري کوشش ہوگي کہ ان روابط کو مزيد فروغ ديا جائے، انہوں نے ممتاز ايٹمي سائنسدان ڈاکٹر احمدي روشن کي شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہميں ايسے دلخراش واقعات کے دکھ کا بخوبي اندازہ ہے کيونکہ ہم بھي سپين کے اندر ايسے ہي مسائل سے روبرو ہيں۔