
ملک کے تمام صوبائي گورنروں کے اجلاس ميں ڈاکٹر احمدي نژاد کي شرکت:
صدرِ مملکت کادھہ فجر(انقلاب اسلامي کي کاميابي) کي تقريبات شيانِ شان طريقے سے منانے پر زور
ڈاکٹر احمدي نژاد نے ملک کے صوبائي گورنروں کو انقلاب اسلامي کي تينتيسويں سالگرہ کي مناسبت سےشيانِ شان طريقے سے تقريبات منعقد کرنے،بازاروں ميں قيمتوں پر کھڑي نظر رکھتے ہوئے اجناس ذخيرہ کرنے والوں کے ساتھ سختي سے پيش انے، يارانہ (حکومت کي جانب سے عوام کے ساتھ مالي تعاون) کے دوسرے مرحلے کو حتمي شکل دينے اور درپيش قومي اسمبلي کے انتخابات کو بہتر طريقے سے منعقد کرنے کے سلسلے ميں احکامات جاري کئے۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج (منگل) گورنروں کے ساتھ ملاقات ميں اس بات کا اظہار کيا کہ ايران کے اسلامي انقلاب سے پيغمبراکرم (ص) اور اہل بيت (ع) کا مشن زندہ ہوا ہےجو امام خميني کي بابصيرت قيادت اور ايراني قوم کي کي قرباني اور فداکاري کے نتيجے ميں کاميابي سے ہمکنار ہوا ، يہ عظيم انقلاب انسانيت کو انبياء کے بتلائے ہوئے راستے اور الٰہي اقدار کي طرف راہنمائي کا درس ديتا ہے اور اللہ تعاليٰ کے فضل و کرم سے ہمارا يہ اسلامي انقلاب توحيد اور عدل و انصاف پر مبني امام مہدي (عج)کے انقلاب کيلئے پيش خيمہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو ملک سے بيکاري کے خاتمے کيلئے کوشش اور تلاش کرني چاہيے تاکہ رواں سال کے تک معاشرے سے اس مشکل کي بيخ کني ہو جائے، انہوں نے کہا کہ ملک کے ديگر اہم مسائل ميں سے ايک بنيادي مسئلہ ذراعت کا ہے، ذراعت کا ملک کے اقتصاد ميں ايک اہم حيثيت ہے، اس حوالے سے گذشتہ 32 سالوں ميں بہت اہم اقدامات اٹھائے گئے ہيں جن کے نتيجے ميں ملکي محصولات 30 ٹن سے 110 ٹن تک تجاوز کر گئي ہيں ليکن اس کے باوجود بھي يہ شعبہ مزيد توجہ کا محتاج ہے۔
انہوں نے کہا کہ يارانہ (حکومت کي جانب سے عوام کي مالي امداد) کا پہلا مرحلہ اختتام کو پہنچا ہے جس کے نہايت اچھے نتائج منظرِ عام پر آ چکے ہيں جبکہ دوسرے مرحلے کو بھي حتمي شکل دے دي گئي ہے کہ انشاء اللہ اس پر بھي جلد از جلد کام شروع ہو جائے گا، انہوں بازاروں ميں اشياء کي قيمتيں کنٹرول کرنے کي ہدايات ديں کيونکہ معاشرے ميں ايسے بے ضمير لوگ موجود ہيں جنہوں نے اجناس ذخيرہ کرکے ان سے انبار بھر ديے ہيں تاکہ بازار ميں ان اجناس کي عدم دستيابي کے باعث اشياء کي قيمتوں ميں اضافہ ہو جائے، معاشرے ميں ايسے فرصت طلب افراد کي شناسائي اور ان کے ساتھ سختي سے پيش انا حکومت کي ذمہ داري بنتي ہے ۔
صدر مملکت نے ملک ميں درپيش قومي اسمبلي کے انتخابات کو آزادي اور عدل و انصاف کے ساتھ منعقد کرنے پر زور ديا اور کہا کہ انتخانات کو ايسے طريقے سے منعقد کرنے چاہيے کہ عوام کو اس بات کا يقين ہو جائے کہ انکا ووٹ ضائع نہيں ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ حکومتي عہدہ داروں کو عوامي خدمت کے جذبے سے سرشار ہونا چاہيے اور انہيں منتخب ہونے کے بعد ہر دن آپنے آپ کا محاسبہ کرنا چاہيے کہ ايا عہدہ سنبھالنے کے بعد اس ميں اسلام، ولايت اور انقلاب کے ساتھ عشق و محبت کا جذبہ بڑھ گيا ہے يا نہيں؟ انہوں اس بات پر زور ديتے ہوئے کہا کہ ہم قطعا اس بات کي اجازت نہيں ديں گے کہ اسلامي انقلاب کي کاميابي کے بعد ملک ميں جو روحاني اور معنوي ماحول پيدا ہوا ہے وہ اقتدار طلبي اور سياسي کشماکش ميں تبديل ہو جائے۔
انہوں نے اخر ميں کہا کہ ملک کے اندر اللہ تعاليٰ کي رضا اور خوشنودي کي خاطر کام کرنے کا جذبہ پيدا کرنے کيلئے سعي و تلاش کي ضرورت ہے اور جو بھي دنياوي عہدے و منصب کي خاطر اللہ پر توکل کے سوا کسي اور چيز پربھروسہ کرے گا تو اللہ تعاليٰ اسے اسي دنيا ميں ہي رسوا اور ذليل کرے گا۔