
ڈاکٹر احمدي نژاد کا تمام آسماني اديان ميں منتخب عورتوں سے متعلق منعقدہ تقريب سے خطاب:
عورتوں کو حقيقي مقام دلانے کيلئے ايک عظيم انقلاب کي ضرورت ہے
ڈاکٹر احمدي نژاد نے انساني تاريخ ميں عورتوں کے موثر کردار کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عورت مہر و محبت کا پيکر ہے اگر اس سے يہ حيثيت چھين لي جائے تو پورے معاشرے پر منفي اثرات مرتب ہونگے۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نےتمام آسماني اديان ميں منتخب عورتوں کے سلسلے ميں منعقدہ تقريب کے دوران کہا کہ انسان سب سے اعليٰ اور برتر مخلوق ہے کيونکہ اللہ تعاليٰ نے تمام انسانوں کو پاک فطرت کے ساتھ خلق فرمايا ہے اگر انسان کو جعرافيائي حدود اور ظاہري شکل و صورت سے ہٹ کر ديکھا جائے تو ہميں ايک پاک اور شفاف انسان ديکھائي دے گا، انہوں نے کہا کہ انسان کي خلقت سے اللہ تعاليٰ کامقصد يہ ہے کہ انسان اپنے ارادے ، اختيار اور سعي و تلاش سے کمال تک پہنچ جائے، اس حوالے سے تمام انسان برابر ہيں رنگ، نسل اور جعرافيائي حدود کا اس ميں کوئي عمل دخل نہيں ہے، يہي وجہ ہے کہ اللہ تعاليٰ نے انسان کي مزيد راہنمائي کيلئے انبياءاور اولياء بھيجے تاکہ انسان انہيں اسوہ اور نمونہ بنا کر زندگي گزارنے کا سليقہ سيکھے اور اس ہدف ميں مرد اور عورت مساوي ہيں کيونکہ انسان جب کمال کے مراحل طے کر ليتا ہے تو چاہے وہ مرد ہو يا عورت؛ پوري بشريت کيلئے ائيڈيل اور نمونہ بن جاتا ہے يہي وجہ ہے کہ بي بي اسيہ، بي بي ہاجر اور بي بي مريم پوري انسايت کي ہدايت کيلئے نور اور چراغ ہيں، حضرت خديجہ (س)کمال کے اس مقام و منزلت پر پہنچي کہ سرکارِ دو عالم کيلئے تکيہ گاہ بني اور اس کائنات کي خلقت کا راز حضرت فاطمہ(س) کو وہ مقام ملا کہ انساني فکر اسے احاطہ کرنے سے عاجز اور ناتوان ہے کيونکہ حديثِ قدسي ميں ايا ہے کہ اگر فاطمہ(س)نہ ہوتي تو اللہ تعاليٰ يہ کائنات خلق نہ کرتا۔
صدرِ مملکت نے انسان کے کمال ميں عورت کے کردار کو مثالي قرار ديتے ہوئے کہا کہ تمام کمالات اور انساني اقدار تک پہنچنے ميں عورت کا اہم اورموثر کردار ہے کيونکہ عورت محبت کا پيکر ہے اگر عورت نہ ہوتي تو معاشرے ميں ايثار کا نام و نشان نہ ہوتا اور انسان ايمان کي حقيقت سے نااشنا ہوتا، جب ہم تاريخ کي ورق گرداني کرتے ہيں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنيا ميں ہر کاميابي عورت کي عظمت اور فداکاري سے ميسر ہوئي ہے ليکن افسوس کي بات يہ ہے کہ سامراج نے سازشوں سے عورت کو اپنے مقام سے نيچے گرايا، وہ اسے ايک کھلونے کي حيثيت دينے لگے، انہوں نے کہا کہ معاشرے کے اصلاح کيلئے عورتوں کو صفِ اول ميں ہونا چاہيے کيونکہ تمام عظيم انقلابوں کي کاميابي ميں عورتوں کا اساسي اور بنيادي نقش رہا ہے اور آج بھي انہيں يہي کردار نبھانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے کے اصلاح کيلئے ايک ايسا نيا نظام متعارف کرانا ہوگا جو عدالت پر مبني ہو، جسکي بنياد فرزندِ فاطمہ(س) رکھے گاجو ابنِ مريم(س)کے ساتھ ملکر اس دنيا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا اور مجھے يقين ہے کہ جب وہ امام (ع)اپنے رخِ انور سے پردا ہٹائے گا تو اس دور ميں بھي معاشرے کے اصلاح ميں عورت کا عظيم کردار ہوگا۔