
ڈاکٹر احمدي نژاد نئے ٹي وي چينل "
نمائش"کي افتتاحي تقريب کے موقع پر: ناظرين(معاشرے)کي ضروريات کو مد نظر رکھتے ہوئے پروگرامات پيش کرنا وقت کاتقاضا ہے
ڈاکٹر احمدي نژاد نے "نمائش" ٹي وي چينل کے افتتاحي تقريب کے موقع پر کہا کہ معاشرے کي ضروريات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس چينل کا باقاعدہ طور پر آغاز ہو چکا ہے، اميد ہے يہ چينل معاشرے کي تربيت اور اصلاح کے حوالے سے مثبت پروگرامات نشر کرے گاکيونکہ موجودہ دورميں جب ہر نئے دن ارتباطات پيچيدہ ہورہے ہيں،وقت کے تقاضوں اور ضروريات ميں اضافہ ہو رہا ہےتومعاشرے کے اصلاح کےپيشِ نظر ميڈيا کي ذمہ داري سنگين ہو رہي ہے۔لہذا اگر ان کے نشريات ميں ايک دن کا بھي وقفہ آئے تو معاشرے کا نظام درہم برہم ہو جائے گا-
انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر اور باہر رونما ہونے والے فکري، سياسي، اجتماعي اور اقتصادي حالات و واقعات پر کھڑي نظر رکھنا ميڈيا کي اہم ذمہ داري ہے، انکي ذمہ داري صرف يہ نہيں ہے کہ وہ لوگوں کے فارغ اوقات کيلئے کوئي سرگرمي ايجاد کرے البتہ اگر کوئي شخص تفريح کي غرض سےاپنے گھر والوں کے ساتھ مل بيٹھ کر فيلم ديکھتا ہے تو ميرے خيال ميں يہ بھي زندگي کا ايک حصہ ہے۔
صدرمملکت نے کہا کہ ميڈيا کي ذمہ داريوں ميں سے ايک يہ بھي ہے کہ وہ معاشرے کي عمومي ضروريات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے پروگرامات مرتب کرے جيسے معاشرے ميں دوستي اور بھائي چارے کي فضا ايجاد کرنا، اس سلسلے ميں ٹيلي ويژن اور سينما فيلموں کے ذريعہ مثبت کردار ادا کر سکتے ہيں،
انہوں نے کہا کہ ريڈيو اور ٹيلي ويژن ثقافتي پروگرامات پيش کرنے کے حوالے سےسب سے وسيع اور اہم ذريعہ ہيں لہذا اس پر کم از کم 500 دانشمندوں کي نظارت اور نگراني لازمي ہے جو معاشرے کے جزئي مسائل کو چھوڑ کر اہم اور بنيادي مسائل کي نشاندہي کرے تاکہ اسي کے مطابق پروگرامات مرتب کئے جا سکيں،البتہ ہميں معاشرے کے حقيقي تقاضے پوري کرنے پر توجہ ديني چاہيے کيونکہ ہمارے مقابلے ميں دشمن غير اخلاقي پروگرامات پيش کرکےمعاشرے ميں بگاڑ پيدا کر رہے ہيں ليکن مجھے اپنے دانشمندوں اور ہنرمندوں کے کام پر پورا فخر ہےلہذا مجھے اميد ہے کہ وہ اس سلسلے ميں مزيد موثر اقدامات انجام ديں گے، اگر گذشتہ تاريخ پر نظر دوڑائي جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ايراني قوم اپنے ہنر اور فکر و انديشہ کے ذريعہ تمام حريفوں پر فائق آئي ہے۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے اس عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہميں ملک کے اندر مزيد کئي ٹي وي چينلز کھولنے چاہيے تاکہ ہماري قوم کے ہر علاقے اور ہر طبقے کے لوگوں کي ضروريات اورتقاضوں کا لحاظ رکھا جائے اور ہميں پروگرامات ترتيب ديتےوقت نہ صرف موجودہ بلکہ آيندہ کے تقاضے بھي ملحوظِ نظر رکھنے چاہيے۔
انہوں نے اخر ميں ماہ ربيع الاول کي آمد پر اپني قوم سميت دنيا بھر کے مسلمانوں کو مبارکباد پيش کرتے ہوئے کہا کہ اس بابرکت مہينے ميں بہت اہم تاريخي واقعات رونما ہوئے ہيں، جن ميں سے ايک مناسبت عيد ميلاد النبي کي ہے ،جب اس عظيم پيغمبر نے اس دنيا ميں قدم رکھا توانہوں نے معاشرے کو جہالت، خودپرستي اور دوسرے پستيوں سے باہر نکالا اور اسانوں کو عروج اور کمال تک پہنچنے جانے کيلئے مناسب راستہ متعارف کرايا، 1400صدياں گزرنے کے باوجودبشريت کي نجات کيلئے آنحضرت کے بتلائے ہوئے اصول آج بھي درخشندہ اور تابندہ ہيں، اس مہينے کي دوسري اہم مناسبت امام مہدي (عج) کے دورِ امامت کا آغاز ہے، حضرت امام حسن عسکري(ع) کي شہادت کے بعداللہ تعاليٰ کي جانب سے امامت کي مسئوليت اور ذمہ داري حضرت امام مہدي (عج)کے سپرد کي گئي جو آج تک جاري ہے، وہ امام جو تمام انبياء کاوارث، تمام آسماء و صفاتِ الٰہي کا مظہر اور پاک و عدالت خواہ دلوں کي دھڑکن ہے، اللہ تعاليٰ کے فضل و کرم سے جب مولا ظہور فرمائے گا تو معاشرے ميں حقيقي عدالت قائم ہو جائے گي اور انسانيت عروج اور کمال کي اخري چوٹياں سر کرے گي۔