ڈاکٹر احمدي نژاد کا يونيسکو کي معنوي فہرست ميں " تعزيہ خواني"کےشامل ہونے پر منعقدہ تقريب سے خطاب: عاشورہ کا فرہنگ تعزيہ خواني کے ذريعہ دنيا والوں کو منتقل کيا جا سکتا ہے
جمعه 14 December 2012 - 10:12
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ تعزيہ خواني ايک ايسا الٰہي ہنر ہے جو انسانوں کو عزت، عشق اور کمال کا درس ديتا ہے اور انہيں حق وباطل ميں تميز سکھاتا ہے، يہ پوري دنيا ميں واحد ايسا فن ہے جسکي جڑيں عوام کے دلوں ميں جگہ بنا چکي ہيں، انہوں نے کہا کہ حکومت ان تمام افراد کي حمايت اور قدرداني کرتي ہے جنہوں نے تعزيہ خواني کے ذريعہ کربلا اورعاشورا کا ہدف پوري دنيا کو متعارف کرايا ہے۔

ڈاکٹر احمدي نژاد کا يونيسکو کي معنوي فہرست ميں "

تعزيہ خواني"کےشامل ہونے پر منعقدہ تقريب سے خطاب: عاشورہ کا فرہنگ تعزيہ خواني کے ذريعہ دنيا والوں کو منتقل کيا جا سکتا ہے

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ تعزيہ خواني ايک ايسا الٰہي ہنر ہے جو انسانوں کو عزت، عشق اور کمال کا درس ديتا ہے اور انہيں حق وباطل ميں تميز سکھاتا ہے، يہ پوري دنيا ميں واحد ايسا فن ہے جسکي جڑيں عوام کے دلوں ميں جگہ بنا چکي ہيں، انہوں نے کہا کہ حکومت ان تمام افراد کي حمايت اور قدرداني کرتي ہے جنہوں نے تعزيہ خواني کے ذريعہ کربلا اورعاشورا کا ہدف پوري دنيا کو متعارف کرايا ہے۔

خبر کا کوڈ: 34313 - 

پیر 23 January 2012 - 13:27

داکٹر احمدي نژاد نے آج (پير) قبل از ظہر يونيسکو کي معنوي فہرست ميں تعزيہ خواني کے شامل ہونے کے سلسلے ميں منعقدہ تقريب سے خطاب کے دوران کہا کہ تعزيہ خوان پيغمبر اکرم (ص) اور اہلبيت (ع) کے سچے عاشق اور شيدائي ہيں جنہوں نے عرصہ دراز سے نسل در نسل امام حسين (ع) توحيد، عزت اور انسانيت کا پرچم اسي سرزمينِ پاک ميں گھاڑ ليا ہے، ان افراد کا شمار ملک کے گرانقدر ہنرمندوں ميں ہوتا ہے جو بغير کسي لالچ ايراني ثقافت کا پرچار کر رہے ہيں، انہوں نے ملک کے ثقافتي مرکز اور دوسرے مربوط اداروں کو ان افراد کي سرپرستي اور حمايت کے حوالے سے موثر اقدامات اٹھانے پر زور ديا۔

ايراني صدر نے کہا کہ اللہ تعاليٰ نے پوري کائنات کوانسان کے واسطے خلق فرماياہےاور انساني خلقت کاغرض يہ ہے کہ وہ کمال تک پہنچ جائے،آغازِ خلقت سے ہي حق و با طل کے پيروکار اپس ميں برسرِ پيکار ہيں، کہ البتہ ان دو قسم کےطرزِ فکر ميں سے حق کي بنياد يکتا پرستي پر رکھي گئي ہے جس کے پرچار کيلئے پيغمبروں اور اولياء الٰہي نے مسلسل کوششيں کي ہيں، جب ہم تاريخ کي طرف نظر دوڑاتے ہيں تو ہميں صاف ديکھائي ديتا ہے کہ پيغمبراکرم(ص)اور اہلبيت (ع) نے انسانيت کے ساتھ عشق و محبت کي خاطراتني زيادہ مصيبتيں اور تکاليف برداشت کئےکيونکہ وہ عدالت کے ذريعہ انسانوں کو عزت اور کمال تک پہنچانا چاہتے تھے، اس کے مقابلے ميں دوسرے طرزِ فکر کي بنياد انانيت اور خود پرستي پر رکھي گئ ہے ، انکي نظر وہ چيز ارزش رکھتي ہے جن سے انسان کے مادي مفادات وابستہ ہوں، يہ لوگ آپنے آپ کو اعليٰ و برتر اور دوسروں کو اپنا غلام سمجھتے ہيں۔

صدرِ مملکت نے تعزيہ خواني کو عدالت، عزت، عشق اور انساني کمال کے حصول کيلئے بہترين اسوہ قرار ديا کيونکہ يہ تمام اقدار واقعہ کربلا ميں بطورِاکمل موجود ہيں اورواقعہ کربلا قيامت تک کے انسانوں کيلئے صحيح راستے کے انتخاب کيلئےمشعلِ راہ ہے

انہوں نے کہا کہ تعزيہ خواني کا ہنر پوري انسانيت کے ساتھ مربوط ہے لہذا اسے ايک خاص ملک، گروہ يا طبقے کے ساتھ مختص کرنا صحيح نہيں ہے- يہي وجہ ہے کہ اسلامي جمہوريہ ايران ميں مختلف علاقوں کے لوگ اپنے آداب و رسوم کے مطابق عزاداري اور تعزيہ خواني کا انعقاد کرتے ہيں، انہوں نے مزيد کہا کہ واقعہ کربلا کي تصوير کشي کرنا ايک صاف و شفاف راستے کي نشاندہي کرانا ہے-

انہوں نے کہا کہ ايراني عوام تعزيہ خواني کو بہت قدر کي نگاہ سے ديکھتے ہيں اوراس ميں وقت کے ساتھ ساتھ مزيد بہتري آئي ہے۔

صدرمملکت نے مزيد کہا کہ ملک کے ثقافتي مرکز اور وزارتِ ارشاد نے اس سلسلے ميں کافي موثر اقدامات انجام ديے ہيں، اگر تعزيہ کے مقابلے ميں دوسرے ہنروں کي طرف غور کيا جائے تو دوسرے ہنروں ميں ہنرمند اور فنکار کا ہدف يہ ہوتا ہے کہ اگر وہ شاندار کارکردگي کا مظاہرہ کرے تو اسے بين الاقوامي ايوارڈ سے نوازا جائے گا ليکن تعزيہ خواني ميں جو بھي بہتر پرفارم پيش کرتا ہے اور اسکا تجربہ بڑھتا ہے اسے "پير غلام" کا لقب ديا جاتا ہے کيونکہ خضوع اور انکسار ميں ہي انسان کي عظمت پوشيدہ ہے کہ البتہ يہي ثقافت پوري دنيا کے سامنےمتعارف کرانے کي ضرورت ہے-

انہوں نے ايک مرتبہ پھر اس بات پر زور ديا کہ تعزيہ کےحوالے سےخدمات انجام دينے والے کسي بين الاقوامي آسکر ايوارڈ کي خاطريہ خدمات انجام نہيں ديتے بلکہ يہ سب آپنے آپ کو امام حسين (ع) کے خادم اور نوکرسمجھتے ہيں، انکا ہدف اور مقصد يہ ہے کہ پيغمبراکرم (ص) اور اہلبيت (ع)نے انساني معاشرے کے اصلاح کيلئے جو اصول بتلائے ہيں انکي پاسداري کريں، انہوں نے وزارتِ ارشاد پر زور ديا کہ وہ پورے ملک ميں تعزيہ خواني کي حمايت اور پشتيباني کرے اور تمام شہروں ميں تعزيہ خواني کے سلسلے ميں مناسب مقامات فراہم کرے تاکہ زيادہ سے زيادہ افراد ان مجالس ميں شرکت کر سکيں۔

خبر کا کوڈ: 34313  

- عوامی ملاقاتیں