ڈاکٹر احمدي نژاد ميکسيکو کے ٹي وي چينل" ميکسيکن نٹ ورک" کو انٹريو ديتے ہوئے: ايران ہر دھمکي اور حملے کا منہ توڑ جواب دے گا
جمعه 14 December 2012 - 10:11
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español

ڈاکٹر احمدي نژاد نے اس عزم کا اظہار کيا کہ ہمارے اوپر عائد پابندياں ابھي تک ايران کي ترقي ميں رکاوٹ نہيں بن سکيں اور انشاء اللہ آيندہ بھي نہيں بنيں گي اور جو بھي ايران پر حملہ کرنے کي جرأت کرے گا تو اس کا منہ توڑ جواب ديا جائے گا۔

ڈاکٹر احمدي نژاد ميکسيکو کے ٹي وي چينل"

ميکسيکن نٹ ورک" کو انٹريو ديتے ہوئے: ايران ہر دھمکي اور حملے کا منہ توڑ جواب دے گا

ڈاکٹر احمدي نژاد نے اس عزم کا اظہار کيا کہ ہمارے اوپر عائد پابندياں ابھي تک ايران کي ترقي ميں رکاوٹ نہيں بن سکيں اور انشاء اللہ آيندہ بھي نہيں بنيں گي اور جو بھي ايران پر حملہ کرنے کي جرأت کرے گا تو اس کا منہ توڑ جواب ديا جائے گا۔

خبر کا کوڈ: 34232 - 

هفته 21 January 2012 - 16:57

ڈاکٹر احمدي نژاد نے ميکسيکو کے ٹي وي چينل"ميکسيکن نٹ ورک" کو انٹريو ميں آمريکي حکمرانوں کي جانب سے ايران کے جوہري پروگرام کے پيشِ نظر دھمکيوں کے حوالے سے کہا کہ سامراجي اور استعماري طاقتوں کا دوسروں کے خلاف توہين آميز اور نازيبا کلمات استعمال کرنے کا دور اب ختم ہو چکا ہے ، انہوں نے کہا کہ بنيادي طور پر ايران کا جوہري مسئلہ ايک سياسي رنگ اختيار کر چکا ہے اور يہ بات کھول کر سامنے آ چکي ہے کہ آمريکا اور اس کے اتحادي طاقتيں مختلف بہانوں سے ايران کي ترقي ميں رکاوٹيں کھڑي کررہے ہيں کيونکہ وہ پورے خطے پر قبضہ کرکے اسرائيل کيلئے راہ ہموار کرنا چاہتے ہيں اور اسلامي جمہوريہ ايران ان کے ناپاک عزايم و مقاصد تک پہنچنے ميں حائل ہے لہذا آمريکي حکمرانوں کي جانب سے حاليہ دھمکياں ان کي ايران کے ساتھ کئي دہائيوں پر مشتمل دشمني کي ايک کڑي ہے۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے آمريکا کي جانب سے ايران پر احتمالي حملے کے حوالے سے کہا کہ مجھے يقين ہے کہ آمريکي حکومت ميں ايسے سمجھدار بيٹھے ہيں جو دوسرے بے وقوفوں کو ايسے احمقانہ کاروائيوں سے بازرکھيں، البتہ ايرانيوں نے بھي دشواريوں اور مشکلات ميں جينے کا ہنر سيکھ ليا ہے اور تاريخ گواہ ہے کہ جنہوں نے بھي ايران کے خلاف غلط قدم اٹھايا ہے وہ اپنے ارادوں ميں بري طرح ناکام ہو ئے ہيں اور اپنے کرتوتوں پر پشيمان ہيں، يہ بات سب کے ذہن نشين ہوني چاہيے کہ اگر آمريکا سميت کسي بھي ملک نے ايران کے اوپر حملہ کيا تو اس کا منہ توڑ جواب ديا جائے ۔

ايراني صدر نے فردو ميں نئے انڈر گراونڈ ايٹمي مرکز کي تعمير اور اس کے پس منظر ميں ايران کا بين الاقوامي ايٹمي ايجنسي کے ساتھ تعاون کے حوالے سے کہا کہ بعض طاقتيں ايٹمي تنصيبات کا معاينہ کرنے کے بہانے دوسروں کي آزادي اور خود مختاري سلب کرنا چاہتے ہيں کيونکہ ہمارے تمام ايٹمي تنصيبات پر بين الاقوامي ايٹمي ايجنسي کے کيمرے نصب ہيں اورہمارے تمام کام ان کے زيرِ نگراني انجام ہو رہے ہيں ليکن اس ايجنسي نے دوہري پاليسي اپنائي ہے کيونکہ انہوں نے آج تک آمريکا کے حوالے سے ايک بھي گزارش سامنے نہيں لايا حالانکہ اس ايٹمي ايجنسي کا بنيادي مقصد يہ تھا کہ پوري دنيا سے ايٹم بم کا خاتمہ کيا جائے ، انہوں نے مزيد کہا کہ اصولي طور پر ايٹمي تنصيبات پہاڑي علاقوں ميں انڈر گراونڈ نصب کئے جاتے ہيں تاکہ ان سے عوام متاثر نہ ہوں۔

صدرِ مملکت نے کہا کہ ايران ايک متمدن اور مہذب قوم ہے انہيں ايٹم بنانے کي ضرورت نہيں ہے، ايٹم بم کي ضرورت ان قوموں کو ہوگي جو ثقافت، تمدن اور منطق نہيں رکھتے، يہي وجہ ہے کہ ايرانيوں نے کبھي بھي کسي ملک پر قبضہ کرنے کي کوشش نہيں کي ليکن آمريکي افواج آج بھي تيل اور دوسرے ذخاير غارت کرنے کي خاطر خطے ميں موجود ہيں۔

ايراني صدر نے ہولو کاسٹ اور اسرائيل سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب ميں کہا کہ اسرائيل کي بربادي کيلئے ايٹم بم کي ضرورت نہيں ہے کيونکہ اسرائيل کي بنياد ہي ظلم و ستم پر رکھي گئي ہے لہذا يہ خود بہ خود صفحہ ہستي سے مٹ رہا ہے، اسلامي جمہوريہ ايران نے اس سلسلے ميں تجويزديا تھا کہ اسرائيل کے مقبوضہ علاقوں ميں ريفرنڈوم منعقد کيا جائے ليکن انہوں نے اس پر کوئي توجہ نہيں دي، اگر تاريخي پس منظر ميں ديکھا جائے تو اسرائيل کے نقشے ميں کوئي جگہ نہيں ہے کيونکہ آج تک مشرقِ وسطيٰ کے کسي بھي ملک نے اسرائيل کو تسليم نہيں کيا، اگر اسرائيل کا دعويٰ يہ ہے کہ ہولو کاسٹ ايک تاريخي واقعيت رکھتي ہے تو کيوں اس پر تحقيق کي اجازت نہيں ہے؟! اور اس پر تحقيق کرنے والوں کو پابندِ سلاسل کيا جاتا ہے؟، ہم نے اس حوالے سےعالمي برادري کے سامنے صرف دو سوال پيش کئے تھے کہ يہ واقعہ کہاں رونما ہوا؟ اگر يہ واقعہ يورپ ميں پيش ايا تو بھلا بيچارے فلسطينوں کو کيوں اس کا خيمازہ بھگتنا پڑ ے ؟

ميرا دوسرا سوال يہ ہے کہ ہولو کاسٹ سے متعلق تحقيق کي اجازت کيوں نہيں؟ افسوس کي بات يہ ہے کہ وہ اس سوال کا جواب دينے کي بجائے ميڈيا کے ذريعہ نت نئے الزامات لگا رہے ہيں ليکن ايسے اقدامات سے حقيقت چھپ نہيں سکتي اورآخر کار حق کا ہي غلبہ ہوگا۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے آمريکا ميں تعيين سعودي عرب کے سفير کے قتل اور ايران کا ميکسيکو کے کارتل نامي منشياتي گروہ کےساتھ تعاون کے الزام کے حوالے سے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران کے آج تک 3600 جوانوں نے منشيات کے خلاف کاروائيوں ميں جامِ شہادت نوش کيا ہے اور ہم سالانہ کروڑوں ڈالرزاس پر خرچ کرتے ہيں کہ منشيات افغانستان سے دوسرے ممالک تک سپلائي نہ ہوں ليکن افسوس اس بات کي ہے کہ آمريکي تمدن ميں الزام عائد کرنے والے کو کسي دليل يا ثبوت پيش کرنے کي ضرورت نہيں ہوتي لہذا ہر کوئي دوسرے پر ہرطرح کي الزام تراشي کر سکتے ہيں۔

جب صحافي نے اس حوالے سے ڈاکٹر احمدي نژاد کا موقف جانا کہ چند ہفتے قبل يہ بات سامنے آئي ہے کہ ميکسيکو ميں ايران کے حاليہ سفير نے انٹرنيٹ کے ذريعہ آمريکا کے خلاف کاروائي کي ہے؟ تو انہوں نے جواب ميں کہا کہ يہ بھي آمريکي حکمرانوں کے بے بنياد الزامات کي ايک کڑي ہے کيونکہ انٹرنيٹ کے ذريعہ دنيا کے کسي کونے سے بھي ارتباط برقرار کيا جا سکتا ہے ، آج حتيٰ پرايمري سکول کے بچے بھي گھر بيٹھے انٹرنيٹ کے ذريعہ مختلف پروگرامات ہيک کر سکتے ہيں لہذا اس بات کي ضرورت ہي کيا تھي کہ ايک ملک کا سفيربيرونِ ملک جا کر کوئي اقدام کرے، ميرے خيال سے آمريکي حکمرانوں کي جانب سے ايسے گرے ہوئے الزامات پوري مملکت کے احساسات اور شعور کے ساتھ کھيل ہے۔

صحافي کے اس سوال کے جواب ميں کہ حال ہي ميں ايک آمريکي نشنلٹي ہولڈر ايراني کو ايران ميں جاسوسي کے الزام ميں گرفتار کيا گيا اور دوسري جانب چند ايرانيوں کو آمريکي افواج کي کوششوں سے ہائي جيکرز سے رہائي ملي تو اس تناظر ميں کيا ايران مذکورہ جاسوس کي سزا ميں نظرِ ثاني کرے گا؟ ايراني صدر کا موقف يہ تھا کہ آمريکا ميں سالانہ ہزاروں افراد کو پھانسي دي جاتي ہے جن ميں اکثر مقامي باشندے ہوتے ہيں اور کئي بے گناہ بھي ہوتے ہيں تو کيوں آمريکا ان کے ساتھ ہمدردي نہيں بھرتا، ايراني کشتيوں نے بھي کئي مرتبہ مختلف ممالک کے افراد کي جان بچائي ہے يہ ايک انساني ہمدردي ہے جو ہر ايک کي ذمہ داري بنتي ہے لہذا يہ دو مختلف ايشوز ہيں ان کا اپس ميں کوئي ربط نہيں ہے۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے آمريکي حکومت کي جانب سے اسلامي جمہوريہ ايران پر انساني حقوق کے خلاف ورزي کے الزام کے حوالے سے کہا کہ تعجب کي بات يہ ہے کہ آمريکي حکومت ڈيموکرسي اور انساني حقوق کے علمبرداري کا دعويٰ کر رہے ہيں حالانکہ انہوں نے ماضي ميں مارشل لا کے ذريعہ ڈيکٹيٹر شپ پر مبني حکومت ہمارے اوپر مسلط کي تھي اور 25 سالوں تک اس کے جنايات اور مظالم کي حمايت کرتے رہے جبکہ اس زمانے ميں ايران کے اندر آزادي نہيں تھي اور محض نام نہاد انتخابات ہي منعقد کئے جاتے تھے ليکن جوں ہي اسلامي انقلاب کامياب ہوا لوگوں کو صحيح معنوں ميں آزادي اور خود مختاري ملي تو ہر روز انساني حقوق کے پائمالي کے نت نئے الزامات لگاتے رہتے ہيں حالانکہ اسلامي انقلاب کے 32سالہ تاريخ ميں لگ بگ 30مرتبہ انتخابات منعقد ہوچکے ہيں جبکہ گذشتہ آخري صدارتي انتخابات ميں 85 فيصد افراد نے شرکت کي جو ايک عالمي ريکارڈ ہے، لہذا ميرا عالمي برادري سے سوال يہ ہے کہ اگر آپ اسے ڈيموکرسي اور جمہوريت کا نام نہيں ديتےتو پھر آپ ہي بتلائيے کہ ڈيموکرسي کسے کہتے ہيں؟ انہوں نے کہا کہ ايران کے خلاف ايسے بے بنياد الزامات تو ہر کوئي لگا سکتا ہے ليکن سوال يہ ہے کہ کيوں ايسے الزامات ان ممالک پر لگائے جا تے ہيں جو آمريکي پاليسيوں کے مخالف ہيں؟ حالانکہ ہمارے پڑوس ميں ہي ايسے ممالک موجود ہيں جہاں آج تک بالکل انتخابات منعقد نہيں ہوئے اور وہاں عورتوں پر گاڑي چلانے کي پابندي ہے ليکن چونکہ وہ آمريکا کے مطيع اور فرمانبردار ہيں لہذا آمريکي حکومت ان کے خلاف کوئي کاروائي نہيں کرتا۔

صدر مملکت نے کہا کہ انساني حقوق کي خلاف ورزي آمريکي حکومت کي جانب سے انکے مخالفين کيلئے ايک ہتھکنڈہ ہے حالانکہ "انساني حقوق"ايک پاک اور مقدس ايشو ہے جس کے فروغ کيلئے تمام ممالک کو باہمي اتحاد اور يکجہتي سے قدم اٹھانا چاہيے، انہوں نے کہا کہ اگر ديکھا جائے تو دنيا ميں سب سے زيادہ قيدي آمريکا ميں ہيں اور روزانہ اوسطا 30 افراد آمريکي پوليس کے ہاتھوں قتل ہو رہے ہيں، اسي طرح ديگر ممالک ميں بھي ايسي ہي مشکلات ہيں لہذا انساني حقوق کيلئے يہ معيار بنانا کہ جو بھي آمريکي پاليسيوں کا مخالف ہے وہ انساني حقوق پائمال کر رہا ہے اور جو آمريکا کا حامي ہے اسکے تمام جنايات پر پردہ ڈالا جاتا ہے؛ يہ انتہائي ناانصافي ہے، آمريکي حکومت کو ايسے اقدامات سے شرم آني چاہيے۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے ايران اور ميکسيکو کے درميان روابط کو دوستانہ قرار ديتے ہوئے کہا کہ ميکسيکو نے سامراجي طاقت آمريکا کے ہاتھوں بھاري نقصان اٹھايا ہے وہاں کے عوام کافي بااستعداد اور مہذب ہيں ليکن سامراجي طاقتيں ان کي ترقي ميں خلل کھڑي کر رہے ہيں ۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران ميکسيکو سميت تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ روابط کا خواہاں ہے ليکن آمريکي سازشيں ان روابط ميں رخنہ نہيں ڈال سکتيں، انہوں نے کہا کہ انساني نقطہ نظر سے ايران اور آمريکا کي نگاہيں اپس ميں مختلف ہيں، وہ ديگر انسانوں کو اپنا غلام سمجھتے ہيں جبکہ ايران تمام اقوام کو عزت اور قدر کي نگاہ سے ديکھتے ہيں، ہمارا مبنيٰ يہ ہے کہ تمام انسانوں کو ترقي کرنے کا حق حاصل ہے تاکہ ہم سب حقيقي آزادي اور عدالت تک پہنچ سکيں اور اس سلسلے ميں کوئي قوم بھي دوسرے پر رنگ، نسل، زبان يا ثروت کے اعتبار سے دوسروں پر کوئي فضيلت يا برتري نہيں رکھتي۔

انہوں نے اخر ميں کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران اس بات کا خواہاں ہے کہ دنيا کے تمام ممالک باہمي اتحاد اور يکجہتي سے دوستي اور عدالت کے ماحول ميں ايسے نظام کيلئے تلاش اور جد و جہد کرے جس ميں ظلم و زيادتي کا نام و نشان تک نہ ہو ، ليکن افسوس اس بات کي ہے کہ آمريکي حکمران اپني ترقي اور پيشرفت دوسروں کو پسماندہ رکھنے اور اپني عزت و کرامت دوسروں کي توہين ميں ديکھتے ہيں جو ايران قوم کيلئے قطعي طور پر قابلِ قبول نہيں ہے، ہمارا موقف يہ ہے کہ دنيا کو ايٹم بنانے کي ضرورت نہيں ہے بلکہ ايسے پاک اور صالح افراد کي ضرورت ہے جو اپس ميں دوستي اور بھائي چارے سے موجودہ نظام کے بھاگ دوڑ سنبھالے۔

خبر کا کوڈ: 34232  

- انٹرویو کا مکمل متن