ڈاکٹر احمدي نژاد کا اکواڈور کے اخبار ٹيلي گرافو اور سرکاري ٹي وي کو انٹرويو: آمريکا بندوق کے زور پر ڈيموکرسي نافذ کرنا چاہتا ہے
جمعرات 16 May 2013 - 12:32
مربوط خبر
منتخب خبریں

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ ايران اور اکواڈور اکثر بين الاقوامي مسائل ميں اتفاقِ رائے رکھتے ہيں اور دونوں اس بات پر متفق ہيں کہ سامراجي طاقتيں صلح اور امن و امان لانے کے بہانے ديگر ممالک کے داخلي امور ميں مداخلت کر رہے ہيں جس کا انہيں کوئي حق نہيں پہنچتا ، انہيں دوسروں کي آزادي اور خود مختاري کا احترام کرنا چاہيے۔

ڈاکٹر احمدي نژاد کا اکواڈور کے اخبار ٹيلي گرافو اور سرکاري ٹي وي کو انٹرويو:

آمريکا بندوق کے زور پر ڈيموکرسي نافذ کرنا چاہتا ہے

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ ايران اور اکواڈور اکثر بين الاقوامي مسائل ميں اتفاقِ رائے رکھتے ہيں اور دونوں اس بات پر متفق ہيں کہ سامراجي طاقتيں صلح اور امن و امان لانے کے بہانے ديگر ممالک کے داخلي امور ميں مداخلت کر رہے ہيں جس کا انہيں کوئي حق نہيں پہنچتا ، انہيں دوسروں کي آزادي اور خود مختاري کا احترام کرنا چاہيے۔

خبر کا کوڈ: 34140 - 

پیر 16 January 2012 - 09:52

ڈاکٹر احمدي نژاد نے اکواڈور کے اخبار ٹيلي گرافو اور سرکاري ٹي وي کو انٹرويو ديتے ہوئے اسلام اور ليبراليزم سے متعلق سوال کے جواب ميں کہا کہ اگر ليبرل افکار کسي ملک ميں رائج ہوں تو اس پر ہمارا کوئي اعتراض نہيں ليکن اگر وہ اس بہانے ديگر ممالک کےذخاير غارت کرنا چاہيں تو يہ عالمي قوانين کي خلاف ورزي ہے۔

آج جديد ليبرل افکار سامراجي طاقتوں کي جانب سے سابقہ استعماري اہداف جاري رکھنےکيلئے ايک ذريعہ ہے، ورنہ ہر مذہب و مسلک کے لوگ ظلم و ستم کے خلاف ہيں اور اس کا مقابلہ کرنے پر زور ديتے ہيں، صدرِ مملکت نے کہا کہ تمام ممالک آزادي اور ايک دوسرے کا احترام بنيادي فرض سمجھتے ہيں، يہ وہ انساني اقدار ہيں جن کے بارے ميں اللہ تعاليٰ کے پاک پيغمبروں نے ہميشہ پرچارکيا، يقيينا اگر آج حضرت عيسيٰ(ع) ہمارے درميان ہوتے وہ بھي ظلم و ستم اور دوسروں کے حقوق پايمال کرنے کي مخالفت کرتے يہي وجہ تھي کہ وقت کے ستمگروں نے اسے سولي پر چڑھاني کوشش کي۔

صدر مملکت نے کہا کہ انسان کي خلقت کا غرض بھي يہي ہے کہ وہ اپس ميں پيار اور محبت کےساتھ زندگي گزارے، جنگ اور دشمني ايسي خصلتيں ہيں جو انساني فطرت کے خلاف ہيں، انہوں نے کہا کہ دنيا ميں موجودہ اختلافات کا سرچشمہ يہ ہے کہ بعض انسان اپنے حق پر قانع نہيں ہيں وہ آپني ترقي اور پيشرفت کو دوسروں پر ظلم کرنے اور انہيں پسماندہ رکھنے ميں ديکھتے ہيں اور اپنے بقاء کي خاطر دوسروں کو لڑا نا چاہتے ہيں جو حيوان کي خصلت ہے، انسانوں کو تو عشق اور محبت سے زندگي گزارني چاہيے ۔

انہوں نے مزيد کہا کہ جنوبي آمريکا کے اکثر ممالک خداداد نعمتوں اور وسيع ذخاير کے باوجود فقر کي زندگي گزارنے پر مجبور ہيں اس کي وجہ يہ ہے کہ سامراج نے ان کي ثروت چھين کر اپني جيب بھر ديے ہيں۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے عرب ممالک کا ايٹمي مسئلہ ميں ايران کي مخالفت سے متعلق سوال کے جواب ميں کہا کہ بنيادي طور پر ايٹمي توانائي کاصنعت، زراعت، ميڈيکل اور بجلي سميت ديگر مختلف امور ميں بنيادي استعمال ہے، يہ ايک کارآمد اور مفيدتوانائي ہے جو ہر ملک کے پاس ہوني چاہيے ، انہوں نےايران کےايٹمي مسئلہ ميں آمريکا کي مخالفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران نے ايٹمي مسئلہ ميں بين الاقومي ايٹمي ايجنسي کےساتھ بھر پور تعاون کيا اور ان کے تمام خدشات برطرف کرنے کي کوشش کي ليکن آج تک وہ اپني بات پر ڈٹے ہوئے ہيں کہ ايران ايٹم بم بنانا چاہتا ہے بھلا ہزاروں ايٹم بموں کے مقابلے ميں ايک ايٹم بم کي کيا حيثيت ہو سکتي ہے ؟ٍ ! اگر غور کيا جائےتوہمارے پڑوس ميں واقع اسرائيل کے پاس ايٹم بم موجود ہے ليکن پھر بھي آمريکا کےا ن کے ساتھ قريبي روابط ہيں، اخر ميرا عالمي برادري سے سوال يہ ہے کہ اگر ايٹم بنانا برا ہے تو آمريکا اور اسرائيل کي نسبت ايسا کيوں نہيں؟؟؟

انہوں نے کہا کہ بنيادي بات يہ ہے کہ آمريکا کا ايران کے ساتھ ديرينہ دشمني ہے وہ اسے خطے کو زيرِ تسلط لانے ميں رکاوٹ سمجھ رہا ہے ، جب ہم ماضي کا جائزہ ليتے ہيں تو يہ لوگ اسلامي انقلاب سے پہلے ايران کي ڈيکٹيٹرشپ پر مبني حکومت کي حمايت کر رہے تھے جہاں آزادي اور انتخاب کا نام و نشان تک نہيں تھا يہاں تک کہ يہ لوگ اس وقت ايران کو ايٹمي توانائي مہيا کرنے کيلئے تيار تھے اور اس سلسلے ميں 6 معاہدوں پر دستخط بھي ہوئے تھے ليکن جوں ہي اسلامي انقلاب کامياب ہوا وہ تمام معاہدوں سے پيچھے ہٹے اور ايران کےساتھ دشمني کرنے لگے۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ تعجب کي بات يہ ہے کہ ہمارے پڑوس ميں ايسے ممالک بھي ہيں جہاں آج تک کوئي انتخابات منعقد نہيں ہوئے اور جہاں عورت کو گاڑي چلانے کي اجازت تک نہيں ليکن پھر بھي آمريکا کے ان کے ساتھ گہرے اور قريبي روابط ہيں،آمريکا نے کبھي بھي ان پر انساني حقوق کي خلاف ورزي کے الزمات عائد نہيں کئے ۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ آمريکا بندوق کے زور پر اور ڈيموکرسي کے شعار کے ساتھ نئے روپ ميں استعماري اہداف و مقاصد کے حصول کيلئےکوشش کر رہا ہے يعني اصل ميں آج آمريکا بندوق کے زور پر ڈيموکرسي نافذ کرنا چاہتا ہے ، انہوں نے اکواڈور کے حوالے سے کہا کہ اکواڈور ايک آزاد اور خود مختار ملک ہے جو صرف ملکي منافع کي خاطر تلاش کر رہا ہے اوربين الاقوامي سطح پر بھي تمام ممالک کيلئےعدالت اور امن و امان کا خواہاں ہے، اگر تمام ممالک يہي پاليسي اختيا ر کرے تو وہ سب جلد عزت اور ترقي کے مينار چھوئيں گے،انہوں نے کہا کہ جنوبي آمريکا کئي صديوں سے سامراج کے زيرِ تسلط تھا، يہ دراصل تمدن اور ثقافت کي سرزمين تھي ليکن سامراجي طاقتوں نے دھوکے اور بندوق کے زور پر اس پورے علاقے کو اپنے قبضے ميں ليا اور ان کےذخاير غارت کرکے اپنے ساتھ لے گئے،ليکن آج حالات مختلف ہيں، لوگ خوابِ غفلت سے بيدار ہو چکے ہيں يہي وجہ ہے کہ آج جہاں کہيں انتخابات ہوں ہر جگہ آمريکا کي مخالف پارٹيوں کو کاميابياں مل رہي ہيں۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ جنوبي آمريکا کے موجودہ حالات ديگر ممالک کيلئے باعثِ عبرت ہيں کيونکہ معلوم ہو رہا ہے کہ غلامي کا دور اختتام کو پہنچا ہے لہذا اب استعماري طاقتوں کو اپنے ملک واپس جانا چاہيے، صدرِ مملکت نے کہا کہ اگر انساني اقدار کي پاسداري چھوڑ دي جائے تو اس سے پوري بشريت کو نقصان ہو گا، اگر سياست ميں اخلاق کو پسِ پشت ڈالا جائے تو ہر جگہ جھوٹ اور دھوکہ بازي کا بول بالا ہوگا، يہي وجہ ہے کہ جب ہم حالات کا جائزہ ليتے ہيں تو ايک گروہ انتخابات ميں کاميابي کيلئے بے گناہ افراد پر جنگ مسلط کرتا ہے ، تيل غارت کرنے کي خاطر عراق پر قبضہ کرتا ہے اور ايک ميلين سے زائد بے گناہ افراد کا خون بہاتا ہے ، اگر اخلاق کو سياست سے الگ کيا جائے تو اسے " وحشي گري" کہا جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ انساني حقوق کوسياسي مقاصد کيلئے استعمال نہيں کرنا چاہيے بلکہ يہ ايک پاکيزہ ايشو ہے جن کيلئے سب کو تلاش اور جد و جہدکرنے کي ضرورت ہے،بنيادي بات يہ ہے کہ صرف صالح بندوں کو حکومت کرنے کا حق حاصل ہے، حضرت عيسيٰ (ع) اور حضرت مہدي (عج) ہي اس ڈوبتي انسانيت کي کشتي کو پار لگا سکتے ہيں، انہوں نے اخر ميں کہا کہ ظلم و ستم کا دور ختم ہو چکا ہے دنيا بيدار ہو چکي ہے,اس بات کے آثار واضح طور پر ديکھائي دے رہے ہيں کہ اللہ تعاليٰ کے فضل و کرم سے ظلم و بربريت کا جلد خاتمہ ہوگا۔

خبر کا کوڈ: 34140  

- انٹرویو کا مکمل متن