
ڈاکٹر احمدي نژاد جنوبي آمريکا کے دورے سے واپسي پر:
جنوبي آمريکا کا حاليہ دورہ ان ممالک کے ساتھ روابط ميں فروغ کے حوالے سے نہايت کامياب رہا
ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ عالمي مسائل ميں ہم فکري ايران اور تمام جنوبي آمريکا کے ممالک کے درميان مشترکہ خصوصيت ہے، اسلامي جمہوريہ ايران آزادي، خود مختاري اورظلم و بربريت کے خلاف جنگ ميں اکثر جنوبي آمريکا کےممالک کےہمراہ ايک طرف ميں واقع ہے۔
ڈاکٹر احمدي نژاد آج (ہفتہ)جنوبي آمريکا کے چہار ملکي دورے سے واپسي پر تہران پہنچے تو مہرآباد ائرپورٹ پر صحافيوں کے سوالات کے جواب ميں کہا کہ جنوبي آمريکا کے ممالک بھي ايران کي مانند سامراج کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے ہيں ليکن پھر بھي ايرانيوں کي طرح آزادي اوراستقلال کے خواہاں اور محبت و دوستي کے جذبے سے سرشار ہيں،انہوں نے کہاکہ جنوبي آمريکا کے ممالک ايران کي نسبت ايک خاص عقيدت رکھتے ہيں، اگرچہ حاليہ دورہ انتہائي مختصر تھا اور وہاں کے عوام کے سے تفصيلي ملاقات کا وقت نہيں ملا ليکن اس کے باوجود جہاں کہيں تھوڑا بہت موقع ملا انہوں نے اسلامي جمہوريہ ايران کے ساتھ اپنے والہانہ عقيدت کا اظہار کيا۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے حاليہ دورے کو انتہائي کامياب قرار ديتے ہوئے اس بات کا اظہار کيا کہ ايران اور جنوبي آمريکا کے ممالک کے درميان پہلے سے قريبي روابط تھے جو رفتہ رفتہ اور زيادہ مستحکم ہو رہے ہيں،انہوں نے کہا کہ بہت عرصہ قبل جنوبي امريکا کے سات ممالک نے مجھےسرکاري دورے کي باقاعدہ دعوت دي تھي ليکن وقت کي تنگي کے باعث محض چہار ممالک کے دورے پر اکتفاء کيا، يہ تمام ممالک علاقائي اور عالمي سطح پر اہم موقعيت رکھتے ہيں۔
ميں نے اپنے دورے کا آغاز ونزويلا سے کيا جو پورے خطے ميں سياسي اور اقتصادي حوالے سے ريڑھ کي ہڈي کي حيثيت رکھتا ہے ، ہوگو چاوز ايک انقلابي شخصيت ہے جو عالمي مسايل پر گہري نظر رکھتے ہيں، وہ آزادي اور خود مختاري کے حوالے سے پوري دنيا ميں ايک قہرمان کي حيثيت رکھتے ہيں اسکا جنوبي آمريکا ميں تحول اور تبديلي کے حوالے سے بہترخيالات ہيں، جبکہ ونزويلا اور ايران کے درميان تعلقات بھي نہايت خوشگوار ہيں، انہوں نے يہ بات ظاہر کي کہ غذائي اور صنعتي کارخانجات دونوں ممالک کے درميان مشترکہ پراجيکٹس ہيں جو ايراني انجنئيرز کے زيرِ نگراني تکميل کے مراحل طے کر رہے ہيں، اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درميان اقتصادي روابط ميں فروغ کے اور زيادہ مواقع موجود ہيں جن کي نشاندہي کي ضرورت ہے، حاليہ دورے ميں دونوں ممالک کے سربراہوں کے درميان تجارتي معاہدوں، بجلي، کشتي سازي اور حمل و نقل کے حوالے سے مفيد مذاکرات ہوئے ، ان مذاکرات ميں تمام معاہدوں کے اجراء ميں درپيش مختلف رکاوٹوں کا تفصيلي جائزہ ليا گيا اور اس حوالے سے موثر اقدامات پر غور کيا گيا ۔
صدرِ مملکت نے بتايا کہ وہ ونزويلا کا دورہ مکمل کرنے کے بعد نيکاراگوئے کے دورے پر چلے گئے، نيکاراگوئے انقلابي افکار کے اعتبار سے جنوبي آمريکا کے ممالک ميں سب سےاگے ہے، ڈانيل اورتگا اور اسکے ساتھيوں کا انقلاب ايران کے اسلامي انقلاب کے ساتھ ايک ہي وقت ميں کاميابي سے ہمکنار ہوا تھا، دونوں انقلابوں کے مابين مختلف حوالوں سے شباہتيں پائي جاتي ہيں، انہوں نے حاليہ دورے کے حوالے سے کہا کہ ڈانيل اورتگا نےحلف برداري کي تقريب ميں شرکت کيلئے مجھے مدعو کيا تھا لہذا ميں نے ميں مہمان خصوصي کے طور پر اس تقريب ميں شرکت کي جو ايک نہايت باوقار تقريب تھي، اس تقريب کے موقع پر اہم شخصيات سے ملاقاتوں کا سلسلہ بھي جاري رہا اور تجارتي، اقتصادي اور ثقافتي روابط کے فروغ کيلئے جامع حکمت عملي تيار کي گئي۔
انہوں نے بتايا کہ نيکاراگوئے کے بعد کيوبا کا دورہ کيا، کيوبا اور ايران کے درميان بہت قديمي روابط تھے جو اسلامي انقلاب کے کاميابي کے بعد مزيد مستحکم ہو گئے ہيں، دونوں ممالک کے درميان مختلف پراجيکٹس پر کام ہو رہا ہےکہ اس سلسلے ميں باہمي تعاون کے نئے مواقع کي تلاش پر بھي غور کيا گيا۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے فيڈرل کاسٹرو کے ساتھ ملاقات کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ فيڈرل کاسٹرو نے کيوبا سميت تمام جنوبي آمريکا کے ممالک کي ترقي کيلئے منصوبہ بندي تيار کي ہے جس کے متعلق حاليہ دورے ميں تفصيل سے بات چيت ہوئي، اس کے علاوہ دوطرفہ روابط ميں فروغ پر بھي غور کيا گيا، کيوبا کا انقلابي ليڈر ملک ميں مختلف حوالوں سے تبديلياں لانے کا خواہشمند ہے کہ ان تبديليوں کيلئے دوطرفہ روابط ميں استحکام کي ضرورت ہےکہ اس سلسلے ميں اسے يقين دہاني کي گئي کہ اسلامي جمہوريہ ايران کيوبا کے ساتھ ہر طرح کے تعاون کيلئے تيار ہے۔
صدرِ مملکت نے بتايا کہ دورے کا اختتام اکواڈور پر ہوا، يہ ملک پورے جنوبي آمريکا ميں ايک ممتاز حيثيت رکھتا ہے، نہايت سرسبز و شاداب سرزمين پر مشتمل اس ملک کے ساتھ ايران کے قريبي روابط تھے کہ البتہ گذشتہ کئي سالوں سے يہ روابط مزيد مستحکم ہو گئے ہيں۔
انہوں نے کہا کہ رافيل کرہ آ ايک آزادفکر اور عوامي حلقوںميں مقبول شخصيت ہے وہ اپنے ملک کو آزادانہ طريقےسے چلانا چاہتا ہے، وہ اقتصاد ميں ايکسپرٹ ہےاور عالمي اقتصاد کے تقاضوں سے بخوبي واقف ہےانہوں نے اپنے ملک کي ترقي کيلئے موثر اقدامات انجام ديے ہيں۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے مزيد کہا کہ اکواڈور زراعت کے شعبہ ميں جبکہ اسلامي جمہوريہ ايران صنعت کے شعبہ ميں کافي مہارت رکھتے ہيں لہذا دونوں ممالک کے درميان جاري 20سے زيادہ پراجيکٹس کيلئے منصوبہ بندي تيار کي گئي اميد ہے مستقبل ميں اسکے نہايت اچھے نتائج سامنے آئيں گے، حاليہ دورے ميں اس مشترکہ پراجيکٹس کے حوالے سے کئي معاہدوں پر دستخط ہوئے جن سے دونوں ممالک کے درميان ثقافتي، سياسي اور اقتصادي روابط کو فروغ ملے گا۔