
ڈاکٹراحمدي نژاد کا سرينام کے صدر سے ملاقات آج آزادي اور انصاف کا جذبہ پوري دنيا پر چهايا جا رہا ہے
ڈاکٹر احمدي نژاد نے سرينام کے صدر سے ملاقات ميں مختلف شعبوں ميں روابط کے فروغ پر زور ديتے ہوئے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران؛ آزاد اور خود مختار ممالک کے ساتھ روابط بڑھانےميں کسي محدوديت کا قائل نہيں ہے وہ اسے عالمي سطح پر عدالت پسند طرفداروں کي تقويت کا باعث سمجھتے ہيں۔
صدر مملکت نے ڈانيل اورتگا کے حلف برداري کي تقريب کے موقع پر سرينام کے صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج انصاف کا جذبہ ممالک کو اپس ميں جوڑ رہا ہے، اس جذبے کا تعلق انسان کي فطرت سے ہے جو علاقائي اور جعرافيائي حدود سے ماوراء انسانوں کو اپس ميں نزديک لا رہا ہے۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے مزيد کہا کہ آج دنيا بيدار ہو چکي ہے اور آزادي و عدالت کے طرفداروں ميں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اگر ديکھا جائے تو آزادي، عدالت اور انساني کرامت ايسے اقدار ہيں جن کے حصول کيلئے تلاش اور لگن کي ضرورت ہے،بحمداللہ آج اکثر ممالک اسي راہ پر گامزن ہيں ۔
انہوں نے مزيد کہا کہ آج کے انسانوں کے تمام مشکلات چند اقليتوں کے پيداوار ہيں جو دوسروں کا حق لوٹ رہے ہيں، يہ آزاد اور مختار ممالک پر طرح طرح کا دباؤ ڈال رہے ہيں ليکن اس تمام تر دباؤ کے باوجود ہم عدالت اور آزادي کے حصول کيلئے اخري دم تک اپني کوششيں جاري رکھيں گے، جيسا کہ اللہ تعاليٰ کا وعدہ ہے اخر کار فتح عدالت کے طرفداروں کو ہي نصيب ہو گي،اسي طرح ڈاکٹر احمدي نژاد نے سرينام کے صدر کو صدارتي انتخابات ميں دوسري مرتبہ کاميابي ملنے پر مبارکباد پيش کي۔
سورينام کے صدر نے اس ملاقات ميں ايران اور سورينام کے درميان روابط کے استحکام پر زور ديتے ہوئے اس عزم کا اظہار کيا کہ سرينام ايران سميت تمام پيشرفتہ اور ترقيافتہ ممالک کے ساتھ روابط کو فروغ دينا چاہتا ہے-
انہوں نے خطے اور بين الاقومي سطح پر رونما ہونے والے مسائل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آمريکا اور يورپ کے اقتصادي بحران سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا اقتصاد مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے لہذا وقت کا تقاضا يہ ہے کہ علاقائي اور بين الاقومي روابط کو فروغ ديا جائے۔