- ايران اور نکاراگوئے کے سربراہانِ مملکت کا دنيا ميں امن و سکون قائم ہونے کيلئے باہمي تعاون اور ہمکاري کے فروغ پر زور
جمعه 14 December 2012 - 10:10
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español
مربوط خبر
منتخب خبریں

ايران اور نکاراگوئے کے سربراہانِ مملکت نے دوطرفہ ملاقات ميں اہم علاقائي اور بين الاقوامي مسائل اور دوطرفہ روابط کے فروغ کے سلسلے ميں مختلف امور پر تبادلہ خيال کرتے ہوئے دنيا ميں صلح، عدالت اور امن بر قرار رکھنے کيلئے باہمي تعاون اور ہمکاري ميں فروغ پر زور ديا ۔

ايران اور نکاراگوئے کے سربراہانِ مملکت کا دنيا ميں امن و سکون قائم ہونے کيلئے باہمي تعاون اور ہمکاري کے فروغ پر زور

ايران اور نکاراگوئے کے سربراہانِ مملکت نے دوطرفہ ملاقات ميں اہم علاقائي اور بين الاقوامي مسائل اور دوطرفہ روابط کے فروغ کے سلسلے ميں مختلف امور پر تبادلہ خيال کرتے ہوئے دنيا ميں صلح، عدالت اور امن بر قرار رکھنے کيلئے باہمي تعاون اور ہمکاري ميں فروغ پر زور ديا ۔

خبر کا کوڈ: 34000 - 

بد 11 January 2012 - 13:35

ڈاکٹراحمدي نژاد اور ڈانيل اورتگا نےاستعماري اور سرمايہ داري نظام کے مقابلے ميں آزاد اورخود مختار ممالک کو اتحاد اور يکجہتي برقرار رکھنےکي تاکيد کي، ايراني صدر نے کہا کہ دنيا پر حاکم ظالمانہ نظام اپنے اخري مراحل سے گزر رہا ہے اور يہ بات تجربے سے ثابت ہے کہ جب بھي ان سامراجي طاقتوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو يہ بھيس بدل نئے روپ ميں اپنے ناپاک عزائم اور مقاصد کے حصول کيلئے کوششيں شروع کر ديتے ہيں جيسا کہ آج وہ انساني حقوق کا علمبردار بن کردوسروں کو فريب دينے کي کوشش کر رہے ہيں، انہوں نے ايران اور نکاراگوئے کے درميان اقتصاد اور زراعت کے شعبہ ميں روابط کو مزيد استحکام بخشنے پر زور ديتے ہوئے اس عزم کا اظہار کيا کہ ايران اس سلسلے ميں نکاراگوئے کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کيلئے تيار ہے۔

نکاراگوئے کے صدر ڈانيل اورتگا نے اس ملاقات ميں ڈاکٹر احمدي نژاد کا اس کےحلف برداري کي تقريب ميں شرکت پرشکريہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ايران اور نيکاراگوئے عالمي سياست ميں ايک طرف ميں واقع ہيں اور دنيا ميں امن و امان قائم کرنے کيلئے جد و جہد کر رہے ہيں کہ البتہ اس سلسلے ميں اسلامي جمہوريہ ايران کا کردار نماياں ہے۔

انہوں نے آمريکا اور يورپ کے حاليہ بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات کا تقاضا يہ ہے کہ ايران اور نکاراگوئے سميت تمام ممالک کو سرمايہ ساري نظام کے مقابلے ميں اتحاد اور يکجہتي کا مظاہرہ کرنا ہوگا، انہوں نے مزيد کہا کہ ماضي ميں جنوبي آمريکا استعمار کا ريسٹ ہاوس شمار ہوتا تھا ليکن آج يہ ممالک آمريکا کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہيں، يہ ان ممالک کے خود مختاري کي علامت ہے جو ايک بہت بڑي کاميابي شمار ہوتي ہے۔

ڈانيل اورتگا نے مزيد کہا کہ آزاد اور خود مختار ممالک دنيا پر حاکم اس ناکارہ نظام کے مقابلے ميں اپنے موثر پاليسي کے ذريعہ امن و امان اور ترقي کي جانب ٹھوس اور موثر اقدامات اٹھا سکتے ہيں۔

خبر کا کوڈ: 34000  

- غیرملکی دورے