
ڈاکٹر احمدي نژاد کي ترکي کے وزيرِ خارجہ سے ملاقات:
خطے ميں رونما ہونے والے تحولات کےپس منظر ميں ہمسايہ ممالک کو دشمنوں کي سازشوں سے ہوشيار رہنا چاہيے
ڈاکٹر احمدي نژاد نے خطے اور بين الاقومي سطح پر رونما ہونے والےتحولات کو تيز، جذاب اور وسيع قرار ديتے ہوئے ہمسايہ ممالک کو انسان دشمن عناصر کے فتنوں اور سازشوں کے مقابلے ميں ہوشيار رہنے پر زور ديا ،کيونکہ دشمن حاليہ مسايل سے نا جائز فائدہ اٹھا رہي ہے ۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے ترکي وزيرِ خارجہ جناب داؤد اوغلو کے ساتھ ملاقات کے دوران اس بات کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران آزادي، عدالت، ڈيموکرسي اور اپنے مستقبل کا فيصلہ خود کرنے کا حق تمام ممالک کيلئے فرض سمجھتا ہے، انہوں نے کہا کہ کوشش يہي کرني چاہيے کہ يہ حقوق تمام ممالک کو مل سکيں، لہذا يہ حکومت کہ ذمہ داري بنتي ہے کہ وہ عوام کے مطالبات پر توجہ دينے کے ساتھ ساتھ باہمي تعاون اور افہام و تفہيم سے اس سلسلے ميں قدم اٹھائے ۔
ايراني صدرنے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران نے ہميشہ استعماري طاقتوں کے مقابلے ميں ديگر مظلوم ممالک کي حمايت کي ہے اور انشاء اللہ آينده بھي ہمسايہ ممالک اورديگر مستقل اور آزادي طلب ممالک کي حمايت جاري رکھے گا، انہوں نے مزيد کہا کہ ايران اور ترکي مل کر خطے ميں امن و امان کي صورتحال پيدا کرنے ميں موثر کردار ادا کر سکتے ہيں جبکہ ايران ترکي کے ساتھ مختلف شعبوں ميں باہمي تعاون کو مزيد فروغ دينا چاہتا ہے۔
ترکي کے وزيرِ خارجہ جناب داؤد اوغلو نے اس ملاقات ميں علاقائي اور عالمي سطح پر اسلامي جمہوريہ ايران کےاہم اورموثر موقعيت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ترکي ايران کے ساتھ وسيع پيمانے پر تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے،انہوں نے مزيد کہا کہ ترکي خطے ميں رونما ہونے والے مسايل کو "اسلامي بيداري" کا نام ديتا ہے اور امپراليزم کي جانب سے حاليہ تحولات ميں رخنہ اور رکاوٹ ڈالنے کو اسلامي دنيا کيلئے نقصان دہ سمجھتا ہے۔