ڈاکٹر احمدي نژاد کاروس کے صدر کے ساتھ ٹيليفوني گفتگو: ايران اور روس کے سربراہانِ مملکت نے دونوں ملکوں کے درميا ں اقتصادي معاهدوں ميں ڈالر کے مقابلے ميں ملکي كرنسي استعمال کرنے کا فيصلہ
جمعرات 16 May 2013 - 12:36
مربوط خبر
منتخب خبریں

ايران اور روس کے سربراہانِ مملکت نے ٹيلي فون پر اہم بين الاقومي، علاقائي اور دوطرفہ روابط ميں استحکام لانے کے طريقہ کار پر بات چيت کي ہے اور اس سلسلے ميں دونوں ممالک کے درميان تعاون پر زور ديا ہے،ڈاکٹر احمدي نژاد اور ڈيميتري مددووف نے دونوں ممالک کاخطے ميں رونما ہونے والے مسائل کے حوالے سے ہم خيالي کي طرف اشارہ کرتے ہوئے عالمي دباؤ اور بحران کو خطے ميں امن و امان خراب کرنے کاباعث قرار ديا اور درپيش مشکلات کے حل کيلئے ايران اور روس کے مابين قريبي ہماہنگي پيدا کرنے پر زور ديا،اسي طرح دونوں ممالک کےسربراہانِ مملکت نے دونوں ممالک کے درميان اقتصادي اور تجارتي سطح پر تعاون کے فروغ اور ڈالر کے بجائے ملکي سکہ استعمال کرنے پر زور ديا اور اسے دونوں ممالک کے درميان لين دين ميں مزيدتقويت کا باعث قرار ديا۔

ڈاکٹر احمدي نژاد کاروس کے صدر کے ساتھ ٹيليفوني گفتگو:

ايران اور روس کے سربراہانِ مملکت نے دونوں ملکوں کے درميا ں اقتصادي معاهدوں ميں ڈالر کے مقابلے ميں ملکي كرنسي استعمال کرنے کا فيصلہ

ايران اور روس کے سربراہانِ مملکت نے ٹيلي فون پر اہم بين الاقومي، علاقائي اور دوطرفہ روابط ميں استحکام لانے کے طريقہ کار پر بات چيت کي ہے اور اس سلسلے ميں دونوں ممالک کے درميان تعاون پر زور ديا ہے،ڈاکٹر احمدي نژاد اور ڈيميتري مددووف نے دونوں ممالک کاخطے ميں رونما ہونے والے مسائل کے حوالے سے ہم خيالي کي طرف اشارہ کرتے ہوئے عالمي دباؤ اور بحران کو خطے ميں امن و امان خراب کرنے کاباعث قرار ديا اور درپيش مشکلات کے حل کيلئے ايران اور روس کے مابين قريبي ہماہنگي پيدا کرنے پر زور ديا،اسي طرح دونوں ممالک کےسربراہانِ مملکت نے دونوں ممالک کے درميان اقتصادي اور تجارتي سطح پر تعاون کے فروغ اور ڈالر کے بجائے ملکي سکہ استعمال کرنے پر زور ديا اور اسے دونوں ممالک کے درميان لين دين ميں مزيدتقويت کا باعث قرار ديا۔

خبر کا کوڈ: 33694 - 

جمعرات 05 January 2012 - 17:13

ايراني صدر نے اس گفتگو ميں تہران اور ماسکو کے درميان بڑھتے ہوئے روابط اور دونوں ممالک کا علاقائي اور بين الاقوامي سطح پر اہم مقام و موقعيت کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے ميں درپيش تحولات کے پيشِ نظر اورموجودہ وسائل و امکانات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے دونوں ممالک کے درميان ہماہنگي کو مزيد فروغ دينے کي ضرورت ہے اور يہ اقدام دونوں ملکوں بلکہ پورےخطے کے مفاد ميں ہے،انہوں نے دريا خزر کے حوالے سے منعقدہ قرارداد پر عمل درآمد کو لازمي قرار ديتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درميان دريا خزرکے متعلق غير ملکي افواج کي مداخلت روکنے اور اسے ملکي افواج کے حوالے کرنے سے منعقدہ قرارداد نہايت ہي مفيد اور کارآمد ہے، اس پر عمل کرنے سے ايران اور روس کے درميان اقتصادي اور تجارتي معاملات کئي گناہ بڑھ جائيں گے۔

روس کے صدر ڈيميتري مددووف نے گفتگو ميں اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روس اور ايران عالمي مسائل ميں ايک جيسا نظر رکھتے ہيں ،انہوں نے کہا کہ ايران کي مانند روس بھي صلح اور مذاکرات کو خطے کے بعض ممالک ميں رونما ہونے والےمسائل کا حل سمجھتےہيں،روسي صدر نے اقتصاد کے شعبہ ميں دوطرفہ روابط کے فروغ پر زور ديتے ہوئے اپس ميں تجارتي معاملات ميں ڈالر کا استعمال ممنوع قرار ديا اور کہا کہ ايران اور روس کے درميان روابط بڑھانے کے مواقع کہيں زيادہ ہيں، اس حوالے سے ہمارا ملک ايران کے ساتھ تمام شعبوں ميں روابط بڑھانے کا خواہاں ہے اور ماضي ميں طے پائے تمام قراردادوں پر عمل درآمد کو ضروري سمجھتا ہے۔

روس کے صدر نے دريا خزر کي اہميت کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دريا خزر کا شمار ملکي ملکيت ميں ہوتا ہے لہذا غير ملکي افواج کايہاں دخل آندازي ٹھيک نہيں ہے، اس سلسلے ميں دريا کے کنارے بسنے والے ممالک کو فيصلہ کرنے کا حق حاصل ہے کہ وہ اسکا پاني کن مقاصد کيلئےاستعمال کرتے ہيں، انہوں نے بوشہر ايٹمي پلانٹ کو تہران اور ماسکو کے مابين دوستي اور تعاون کا ايک نمونہ قرار ديتے ہوئے مستقبل ميں بھي اس قسم کے تعاون جاري رکھنے پر زور ديا، دونوں ممالک کے سربراہانِ مملکت نے اخر ميں ايران کے صلح آميز ايٹمي پروگرام کي حمايت کرتے ہوئے آيندہ کيلئے روس کے ساتھ قدم بہ قدم "5+1"قرارداد کو مفيداور ثمربخش قرار ديا ۔

خبر کا کوڈ: 33694  

- ٹیلی فونی گفتگو