
ڈاکٹر احمدي نژاد کا ترکي پارليمنٹ کے دوستي گروپ کے چيرمين اور ديگر اراکين سے ملاقات بيت المقدس ميں يہودي آباد کرنے كي وجه سے اسرائيل کا خاتمہ ہو جائے گا -
ڈاکٹر احمدي نژاد نے بيت المقدس ميں يہودي آباد کرنے کو استعماري طاقتوں کي جانب سے اسرائيل کو نجات دلانے اور خطے پر قبضہ کرنے کيلئے سوچا سمجھا منصوبہ قرار ديا اور کہا کہ ايسے اقدامات اسرائيل کو آباد کرنے کي بجائے اسے صفحہ ہستي سے مٹا دے گا۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے ترکي پارليمنٹ کے دوستي گروپ کے چيرمين جناب مراد ييليديريم اور ديگر اراکين سے ملاقات کے دوران اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ اسلامي جمہوريہ ايران اور ترکي کے درميان بہت مشترکہ منافع اور اہداف موجود ہيں ؛ مسئلہ فلسطين کو دونوں ممالک کا مشترکہ ايشو قرار ديا اور کہا کہ مسئلہ فلسطين مشرقِ وسطيٰ بلکہ پوري دنيا کااساسي اور بنيادي مسئلہ ہے جسے نظرآنداز کرنا مناسب نہيں ہے۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے اس بات کہ طرف اشارہ کيا کہ اسرائيل پوري انسانيت پر سياہ داغ کي مانندہے، يہ دشمن کے ہاتھوں کا کھلونا ہے جسے وہ خطے ميں اختلافات پيدا کرنے طور پر استعمال کر رہا ہے لہذا اگر يہ مٹ جائے تو اختلافات کا نام و نشان تک باقي نہيں رہے گا۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے خطے ميں دشمنوں کي بيجا دخل آندازي روکنے کو دونوں ممالک کا مشترکہ ہدف قرار ديا اور کہا کہ دشمن کو خطے ميں کسي ملک کي ترقي بھي گوارا نہيں ہے، وہ چاہتے ہيں کہ يہ تمام ممالک کمزور اور انکے ماتحت ہوں، انہوں نے عوامي فلاح و بہبود کيلئے کوششوں کو دونوں ممالک کا ديگر مشترکہ ہدف قرار ديا اور کہا کہ مادي وسائل اور افرادي قوت کے لحاظ سے دونوں ممالک کے پاس کافي بہتر ٹيلنٹ اور استعداد موجود ہے جسے بہ روئے کار لاکرمزيد ترقي کي جانب قدم بڑھايا جا سکتا ہے اور درپيش ملکي ضروريات پوري کئے جا سکتے ہيں۔
ترکي پارليمنٹ کے دوستي گروپ کے چيرمين جناب مراد ييليديريم نے اس ملاقات کے دوران اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران اور ترکي کے درميان کافي مشترکات موجود ہيں ، انہوں نے کہا کہ ترکي نے ايران کے ساتھ تمام شعبوں ميں روابط کے فروغ کيلئے لائحہ عمل تيار کيا ہے اميد ہے دونوں ممالک کے درميا ن اقتصاد سميت تمام شعبوں ميں مزيداستحکام پيدا ہو جائے گا، اسي طرح انہوں نے دونوں ممالک کے درميان ثقافتي حوالے سے تعاون پر زور ديتے ہوئے اسے ايک مہم اور بنيادي ايشو قرار ديا ۔
انہوں نے مسئلہ فلسطين پر بحث کرتے ہوئے اسے ايک بين الاقومي مسئلہ قرار ديا اور کہا کہ بيت المقدس اور مسجد الاقصيٰ کا کئي دہائيوں سے يہوديوں کے قبضے ميں ہونا نہايت افسوسناک ہے ، ہمارا عقيدہ يہ ہے کہ اسرئيل اپني اخري کروٹ لے رہا ہے ، عنقريب دنيا سے ظلم اور بربريت کا خاتمہ ہو جائے گا ، انہوں نےايڈيا پيش کرتے ہوئے کہا کہ اگر پوري دنيا سے فلسطينيوں کي حمايت ميں دوستي کے گروپ تشکيل ديے جائيں اور ان تمام گروپوں کو ايک پليٹ فارم کے نيچے جمع کئے جائيں تو فلسطينيوں کي حمايت ميں ايک مستحکم طاقت بن جائے گي۔