ڈاکٹر احمدي نژاد کا ايلام ميں عظيم عوامي اجتماع سے خطاب: استعماري طاقتوں کے پاس ايران سے مقابلے کيلئے واحد راستہ انکے حقوق کا احترام کرنا ہے
جمعه 14 December 2012 - 11:58
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ استعماري طاقتوں کا خيال يہ ہے کہ وہ اپنے وسائل اور ٹيکنالوجي کے ذريعہ سے سختي اور غلط زباني سے اسلامي جمہوريہ ايران کے خلاف نازيبا کلمات استعمال کرتے رہيں گے اور انہيں ايسے الزامات ديتے رہيں گے جن کےوہ خود مستحق ہيں ليکن انہيں خبردار رہنا چاہيے کہ ايران کے مقابلے ميں ان کے پاس واحد راستہ ايرانيوں کےساتھ دوستي اور ان کےحقوق کا خيال رکھنا ہے، بہرحال انہيں ياد رکھنا چاہيے کہ اسلامي جمہوريہ ايران انکے مقابلے ميں اپنے موقف سے ايک اينچ بھي پيچھےنہيں ہٹے گا۔

ڈاکٹر احمدي نژاد کا ايلام ميں عظيم عوامي اجتماع سے خطاب:

استعماري طاقتوں کے پاس ايران سے مقابلے کيلئے واحد راستہ انکے حقوق کا احترام کرنا ہے

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ استعماري طاقتوں کا خيال يہ ہے کہ وہ اپنے وسائل اور ٹيکنالوجي کے ذريعہ سے سختي اور غلط زباني سے اسلامي جمہوريہ ايران کے خلاف نازيبا کلمات استعمال کرتے رہيں گے اور انہيں ايسے الزامات ديتے رہيں گے جن کےوہ خود مستحق ہيں ليکن انہيں خبردار رہنا چاہيے کہ ايران کے مقابلے ميں ان کے پاس واحد راستہ ايرانيوں کےساتھ دوستي اور ان کےحقوق کا خيال رکھنا ہے، بہرحال انہيں ياد رکھنا چاہيے کہ اسلامي جمہوريہ ايران انکے مقابلے ميں اپنے موقف سے ايک اينچ بھي پيچھےنہيں ہٹے گا۔

خبر کا کوڈ: 33593 - 

بد 28 December 2011 - 12:25

ڈاکٹر احمدي نژاد نے ايلام ميں پرجوش عوامي اجتماع سے خطاب کے دوران کہا کہ استعمار نے بعض ممالک کو آلہ کار بنايا ہوا ہے وہ انہيں دوسروں کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہيں ليکن يہ بيچارے اس بات سے بالکل غافل ہيں کہ استعمار کھبي کسي کا دوست نہيں بن سکتا، انکا حقيقي دوست طاقت اور ثروت ہيں ، انہوں نے ہميشہ دوستي کے بھيس ميں دھوکہ ديا ہے، صدرِ مملکت نے کہا کہ سابقہ استعماري طاقتيں نئے شعار کے ساتھ پورے خطے کو اپنے زيرِ تسلط لانے اور اسرائيل کو تباہي و نابودي سے بچانے کيلئے جديد پاليسياں لاگو کرنا چاہتےہيں لہذا وہ ان اہداف تک پہنچے کيلئے بعض آلہ کاروں کو استعمال کر رہے ہيں۔

ايراني صدر نے کہا کہ استعماري طاقتيں بعض عرب ممالک کو ايک دوسرے کے خلاف اکسا رہے ہيں ليکن يہ لوگ اس بات سے غافل ہيں کہ اگر استعمار موجودہ ٹارگٹ ميں کامياب ہو جاتا ہے تو آيندہ انکي باري ہوگي ليکن افسوس کي بات يہ ہے کہ يہ لوگ استعمار کےساتھ ظاہري دوستي سے خوش ديکھائي ديتے ہيں اور بھر پور طاقت و توانائي سے دوسرے ممالک کے خلاف پروپيگنڈوں ميں مصروف ہيں۔

ڈاکٹر احمدي نژادنے کہا کہ تاريخ کا ايک آنوکھا لطيفہ ہے کہ بعض ايسے ممالک جہاں جمہوريت، آزادي اور انتخابات کانام و نشان تک نہيں ہے؛اکھٹے ہو کر ديگر ممالک پر پابندياں لگا رہے ہيں کہ انہيں شفاف انتخابات برگزار کرنے چاہيے

انہوں نے بعض ہمسايہ ممالک سے مخاطب ہو کر کہا کہ اگر آپ اس غلط فہمي ميں مبتلا ہيں کہ تيل کے پيسے سے اسلحہ خريد کر ہمسايہ ممالک کے باغيوں کو سپورٹ فراہم کرکے استعمار کے دل جيت سکتے ہيں تو يہ آپکي بھول ہے ، تمہيں شجاع اور باايمان قوم ايران سے سبق ليني چاہيے کہ گذشتہ 32 سالوں سے آپنے اعليٰ الٰہي اقدار کي پاسداري کرتے ہوئے دشمن کے مقابلے ميں سيسہ پلائي ديوار کي مانند کھڑا ہے۔

خبر کا کوڈ: 33593  

- سفرنامه