ڈاکٹر احمدي نژاد ملک کے چہاروں ثقافتي مراکز ميں منتخب افراد سے تجليل کے موقع پر: ثقافتي مراکز کو بشريت کے تاريخي تقاضے پوري کرنے کيلئے پيش قدم ہونا چاہيے
جمعه 14 December 2012 - 11:57
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español

ڈاکٹر احمدي نژاد نے ملک ميں علم، ادب اور ہنر کے لحاظ سے منتخب افراد سے تجليل اور قدرداني کے موقع پر دانشمندؤں، ہنرمندؤں اور مفکرين حضرات کي زحمتوں اور کاوشوں کو انساني اور تاريخي قرار ديتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات ميں جب بشريت کمال اور سعادت حاصل کرنے کيلئے ايک نظام کي تلاش ميں ہے ملک کے دانشمندؤں اور علماء نے نہايت سنگين ذمہ داري اپنے کندھوں پر اٹھائي ہوئي ہے اور معاشرے کو سعادت و کمال دلانے کيلئے دوسرے طبقے کے افراد کي نسبت پيش قدم ہيں ۔

ڈاکٹر احمدي نژاد ملک کے چہاروں ثقافتي مراکز ميں منتخب افراد سے تجليل کے موقع پر:

ثقافتي مراکز کو بشريت کے تاريخي تقاضے پوري کرنے کيلئے پيش قدم ہونا چاہيے

ڈاکٹر احمدي نژاد نے ملک ميں علم، ادب اور ہنر کے لحاظ سے منتخب افراد سے تجليل اور قدرداني کے موقع پر دانشمندؤں، ہنرمندؤں اور مفکرين حضرات کي زحمتوں اور کاوشوں کو انساني اور تاريخي قرار ديتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات ميں جب بشريت کمال اور سعادت حاصل کرنے کيلئے ايک نظام کي تلاش ميں ہے ملک کے دانشمندؤں اور علماء نے نہايت سنگين ذمہ داري اپنے کندھوں پر اٹھائي ہوئي ہے اور معاشرے کو سعادت و کمال دلانے کيلئے دوسرے طبقے کے افراد کي نسبت پيش قدم ہيں ۔

خبر کا کوڈ: 33522 - 

هفته 24 December 2011 - 18:05

صدرِ مملکت نے کہا کہ ايراني ايسي قوم ہيں جو بشريت کے سامنے درپيش تاريخي انتخاب ميں مرکزي کردار ادا کر رہے ہيں اور بے شک ايراني دانشمند، علماء اور مفکرين اس عظيم ہدف کے حصول ميں سب سے آگے ہيں،

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے علماؤں،دانشمندؤں اورہنرمندؤں کو ايک عظيم ذمہ داري سونپي گئي ہے، آج بشريت ہزاروں سال کے تلخ و شرين تجربيات گزارنے کے بعد ايک تاريخي انتخاب کيلئے تياري کر رہي ہے اور دنيا کے تمام مکاتبِ فکر انسان کو سعادت مندانہ زندگي دلانے سے عاجز اور ناتوان آ چکے ہيں،مارکسيزم، اومانيزم اور ليبراليزم سميت تمام مکاتبِ فکر شکستيں کھا کھا کر کنارہ کشي اختيارکر چکے ہيں لہذا اب انسان ايک نئے نظام کي تلاش ميں کھود پڑا ہے ايک ايسا نظام جو انساني حقوق کو اجاگر کرے ،الٰہي اقدار کا پاس رکھے،جس کا اساس عدالت اور آزادي کے اصولوں پر رکھا گيا ہو۔

خبر کا کوڈ: 33522  

- عوامی ملاقاتیں