
صدرِ مملکت نے قم ميں عمراني اور صنعتي منصوبوں کے افتتاح کے موقع پر ڈيکٹيٹروں کي جانب سے ڈيموکرسي کے بہانے پابندياں لگانا افسوسناک لطيفہ ہے
ڈاکٹر احمدي نژاد نے بيان ديا کہ استعماري طاقتوں نے خطے کےچند آلہ کار ممالک کو مکمل تجہيزات فراہم کرکے دوسروں کے خلاف استعمال کرنے کيلئے تيار کيا ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ افسوسناک لطيفہ يہ ہے کہ ايسے چند استعماري طاقتيں جن کے ہاں آج تک بالکل انتخابات برگزار نہيں ہوئے؛ ملکر ديگر ممالک کے خلاف پابندياں لگا رہے ہيں۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے قم ميں حکومتي تعاون سے بنائے گئے 5 ہزار 850 گھروں اور سيمنٹ ميکٹري کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ موجودہ حالات ميں لوگوں کے پاس کوئي امن کا ٹھکانہ موجود نہيں ہے، آمريکہ اور يورپ کے عوام کب تلک فرياد کرتے رہيں گے کہ ہم آپنے حکمرانوں سے تنگ آ چکے ہيں اور زبردستي مسلط کردہ سرمايہ کاري نظام کے مخالف ہيں کيونکہ يہ ايک ظالمانہ نظام ہے، اس ميں انسانيت کيلئے کوئي قدر نہيں ہے،
انہوں نے کہا کہ آج مغربي ممالک پر صرف چند سياسي پارٹياں حکومت کر رہي ہيں اور بيچارے عوام مجبور ہيں ان ميں سے کسي ايک کو اوٹ ديں حالانکہ ان پارٹيوں کے بنيادي افکار اور سياسي پايسياں ايک جيسي ہيں، بہرحال خوشي کي بات يہ ہے کہ آج دنيا ميں يہ تفّکر بڑي تيزي سے پھيل رہا ہے کہ موجودہ نظام بشريت کو سعادت مندانہ زندگي نہيں دلا سکتا اس کيلئے ايک نئے الٰہي نظام کي ضرورت ہے۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے خطے کے حوالے سے گفتگو ميں کہا کہ افسوسناک بات يہ ہے کہ خطے ميں چند ممالک تيل کا پيسہ اسلحہ خريدنے پر خرچ کر رہے ہيں اور استعماري طاقتيں بھي انہيں مسلح کرکے ديگر ممالک کے خلاف اُکسا رہے ہيں ليکن ان بيچاروں کو دشمن کے فتنے کا علم تک نہيں ہے کہ دشمن انہيں کن مقاصد کيلئے استعمال کر رہے ہيں، اب اگر ان سے استعمار کے مقاصد پوري ہو جائيں تو وہ انہيں دور پھينک کر چلے جائيں گے، انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہم نے ان آلہ کار ممالک کو آگاہ اور بيدار کرنے کيلئے حتي الامکان کوشش کي ہے کہ خبردار!انکي سازشوں ميں مت آؤ ليکن اسکا کوئي خاص فائدہ نہ ہوا،بہر حال يہ بات باعثِ مسرت ہے کہ انشاء اللہ عنقريب ہي يہ ساري استعماري طاقتيں صفحۂ ہستي سے مٹ جائيں گي کيونکہ جہان آہستہ آہستہ مہدوي (عج)تمدن کي جانب بڑھتا جا رہا ہے اور بيشک جيسا کہ قم المقدس اسلامي انقلاب لانے ميں پيش قدم تھا اس بار بھي آپنا کردار بخوبي نبھائے گا۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے مزيد کہا کہ قم کے باشندوں نے اسلامي انقلاب آنے سے پہلے وقت کے شيطان کے خلاف ايک ايسا عظيم قيام برپا کياجو اسکے سرنگوني اور اسلامي انقلاب کے پايہ گزاري کا باعث بنا، انہوں نے تقرير کے اخر ميں کہا کہ قم کي پاکيزہ سرزمين کي يہ خصوصيت رہي ہے کہ اس نے اہل بيت (ع) کے سچے پيروکاروں، علماء، مجاہدين، عرفاء اور شہداء کي پرورش کي ہے۔