
ڈاکٹر احمدي نژاد کا تمام بيرونِ ملک تعينات قونصلر جنرلوں (سفيروں) کي تقريب سے خطاب:
ملک کے خارجہ ڈيپلمسي کو خطے اور بين الاقوامي سطح پر رونما ہونے والے تحولات پر کھڑي نظر رکھني چاہيے
ڈاکٹر احمدي نژاد نے تمام بيرونِ ملک تعينات قونصلر جنرلوں(سفيروں) کي تقريب سے خطاب کے موقع پر اسلامي انقلاب کے اہداف تک پہنچنے کيلئے خطے اور بين الاقومي مسائل ميں خارجہ ڈيپلمسي کے کردار کو مہم اور موثر قرار ديا اور کہا کہ بين الاقوامي مسائل ميں ہمارا نقطۂ نظر ايک ہونا چاہيے تاکہ اسکے مطابق ملکي اہداف و مقاصد کو منظم کرکے عمل کيا جاسکے۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے دوسري جنگِ عظيم کے بعد دنيا ميں رونما ہونے والے موجود تحولات کو وسعت اور تاثير کے لحاظ سے بے مثال قرار ديا اور کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران ان تحولات کو " اسلامي بيداري" جبکہ مغربي ممالک اسے "عربي بہار " کا نام دے رہے ہيں ليکن يہ دونوں اس بات ميں متفق ہيں کہ دنيا کے موجودہ نظام ميں تبديلي اور اصلاح ناگزير ہے۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ اسلامي انقلاب استعماري نظام کے خاتمے اور برابري ايجاد کرنے کيلئے لايا گيا تھا ، دراصل استعماري طاقتوں کا اسلامي جمہوريہ ايران اور ديگرخود مختار ممالک پر دباؤ اور پابندياں اسي سلسلے کي ايک کڑي ہے ،
انہوں نے کہا کہ مغربي ممالک کو ايران کے ساتھ مقابلے ميں دو بنيادي مشکلات کا سامنا ہے، پہلا يہ کہ وہ تمام تر کوششوں کے باوجود خطے ميں اسرائيل کي موقعيت کو پختہ اور ہموار نہ کر سکے ، مغربي ممالک کي طرف سے خطے ميں ڈيکٹيڑوں کي حمايت انکي دوسري بنيادي مشکل ہے، البتہ اس موضوع پر انہيں اکثر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے پڑوسي ممالک ميں رونما ہونے والے تحولات کے حوالے سے کہا کہ آمريکا ايران کے مقابلے ميں ڈيموکرسي اور آزادي کے بہانے آمريکي اسلام کو سامنے لانا چاہتا ہے، يہ سب کچھ اس وقت واقع ہو رہا ہے جب اسلامي جمہوريہ ايران خطے کا واحد ملک ہے جہاں گذشتہ 32 سالوں سے باقاعدہ طور پر جمہويت نافذ ہے حالانکہ اطراف ميں ايسے ممالک بھي موجود ہيں جہاں آج تک بالکل انتخابات برگزار نہيں ہوئے ، ليکن افسوس کي بات يہ ہے کہ آج يہي ممالک دوسروں کے خلاف پابندياں لگا رہے ہيں کہ وہاں شفاف انتخابات کيوں برگزار نہيں ہوئے!
ڈاکٹر احمدي نژاد نے مغربي ممالک کے ساتھ روابط کے حوالے سے کہا کہ کچھ لوگ مغربي ممالک کے ساتھ اقتصادي روابط بڑھانے کو مفيد قرار دے رہے ہيں ليکن اگر ديکھا جائے تو ديگر ممالک کے ساتھ اقتصادي روابط بڑھانے کے کافي زرائع اور مواقع موجود ہيں۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے مزيد کہا کہ کہ جہان پر حاکم نظام آپني آخري سانسيں لے رہا ہے جبکہ مہدوي (عج) نظام پوري دنيا پر پھيلنا شروع ہوا ہے، دنيا ميں رونما ہونے والے تحولات اسي سلسلے کي ايک کڑي ہے۔اس تقريب کے ابتداء ميں وزيرِ خارجہ جناب صالحي اور ديگر سفيروں نے خارجہ پاليسي کے حوالے سے اپنے اپنے نظريات بيان کئے۔