ڈاکٹر احمدي نژاد کا ورامين ميں عظيم اجتماع سے خطاب: دشمن عناصر ملک کے اقتصادي نظام ميں خلل ڈال رہے ہيں/زر مبادلہ کے ذخايروسيع مقدار ميں موجودہيں
جمعه 14 December 2012 - 11:56
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español

ڈاکٹر احمدي نژاد نے اس بات پر زور ديتے ديا کہ ملک کا اقتصادي نظام بہتر طريقے سے چل رہا ہے ليکن دشمن عناصر مختلف پروپيگنڈوں اور شايعات سے ملک کا اقتصاد نا امن ظاہر کرکے ملک کي ترقي ميں خلل ڈال رہے ہيں۔

ڈاکٹر احمدي نژاد کا ورامين ميں عظيم اجتماع سے خطاب:

دشمن عناصر ملک کے اقتصادي نظام ميں خلل ڈال رہے ہيں/زر مبادلہ کے ذخايروسيع مقدار ميں موجودہيں

ڈاکٹر احمدي نژاد نے اس بات پر زور ديتے ديا کہ ملک کا اقتصادي نظام بہتر طريقے سے چل رہا ہے ليکن دشمن عناصر مختلف پروپيگنڈوں اور شايعات سے ملک کا اقتصاد نا امن ظاہر کرکے ملک کي ترقي ميں خلل ڈال رہے ہيں۔

خبر کا کوڈ: 33299 - 

بد 21 December 2011 - 10:32

ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج (بدھ) تہران کے جنوب ميں واقع ورامين کے دورے کے موقع پر عوامي اجتماع سے خطاب کے دوران کہا کہ دشمن عناصر ايران کي تعمير و ترقي برداشت نہيں کر سکتے لہذا وہ مختلف بہانوں سے اسلامي جمہوريہ ايران کي ترقي ميں طرح طرح کي رکاوٹيں کھڑي کر رہے ہيں، انہوں نے اپنے عوام سے مخاطب ہو کر کہا کہ دشمنوں کي سازشوں ميں نہ آئيں، انکے شايعات اور پروپيگنڈوں کي طرف کوئي توجہ نہ ديں، بحمداللہ ملک ميں اقتصادي حوالے سے کوئي بحران موجود نہيں ہے بلکہ زرِ مبادلہ کے زخاير ملکي تاريخ ميں سب سے اونچي سطح پر پہنچ گئے ہيں اورسونے کے زخاير بھي اس مقدار ميں موجود ہيں کہ اگر آيندہ 15 سالوں کے دوران اس ميں زرا بھي اضافہ نہ ہوا تب بھي کسي کمي احساس نہيں ہوگا۔

انہوں نے يارانہ (حکومت کي طرف سے عوام کي مالي امداد) کے حوالے سے کہا کہ اگر ہم اسے منطقي شکل نہ ديتے تو حکومت صرف اسي سال کيلئے تيل کے درآمد پر 15 ميلين ڈالر خرچ کرتي ليکن اللہ تعاليٰ کے فضل و کرم سے يہ سارا رقم ملکي خزانے ميں گيا اور انشاء اللہ آيندہ سال تک اسلامي جمہوريہ ايران کا شمار وسيع سطح پر تيل برآمد کرنے والے ممالک ميں ہو جائے گا ۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے اپني تقرير ميں مکتبِ امام حسينؑ کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعاليٰ کي راہ ميں شہادت کا درس ہميں امام حسينؑ نے ديا، انہوں نے کہا کہ اللہ تعاليٰ نے انسان کو کمال تک پہنچنے کيلئے پيدا کيا ہے اور اس کيلئے بنيادي شرط اللہ تعالي کي بندگي ہےجبکہ شہادت اس بندگي اور عبوديت کا معراج ہے۔انہوں نے مزيد کہا کہ اگر انسان صرف اللہ تعاليٰ کي رضا کيلئے اپنے تمام تر مادي اور دنياوي خواہشات کو پسِ پشت ڈالے تو وہ کمال کي انتہا تک پہنچ جائے گا، امام حسينؑ اور اسکے باوفا ساتھيوں نے کربلا کي سرزمين پر اپني شہادت سے يہ سبق قيامت تک کے انسانوں کيلئے اسوہ اور نمونہ چھوڑا ہے۔

خبر کا کوڈ: 33299  

- سفرنامه