روس کے نئے سفير کا ڈاکٹر احمدي نژاد سے ملاقات: ايران اور روس ملکر عالمي مسائل ميں موثر اور قدرت مند ظاہر ہو سکتے ہيں
جمعه 14 December 2012 - 11:55
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ ايران اور روس ملکر عالمي مسائل ميں موثر اور قدرت مند ظاہر ہو سکتے ہيں، انہوں نے کہا کہ بعض استعماري طاقتيں ايران اور روس کو اپنے راستے ميں رکاوٹ سمجھتے ہيں، انہيں ان ممالک کے ترقي يافتہ اور قدرت مند ہونے سے ڈر ہے لہذا وہ مختلف طريقوں سے ان ممالک سميت تمام آزاد اور مستقل ممالک کي ترقي ميں رکاوٹيں کھڑي کر رہے ہيں۔

روس کے نئے سفير کا ڈاکٹر احمدي نژاد سے ملاقات:

ايران اور روس ملکر عالمي مسائل ميں موثر اور قدرت مند ظاہر ہو سکتے ہيں

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ ايران اور روس ملکر عالمي مسائل ميں موثر اور قدرت مند ظاہر ہو سکتے ہيں، انہوں نے کہا کہ بعض استعماري طاقتيں ايران اور روس کو اپنے راستے ميں رکاوٹ سمجھتے ہيں، انہيں ان ممالک کے ترقي يافتہ اور قدرت مند ہونے سے ڈر ہے لہذا وہ مختلف طريقوں سے ان ممالک سميت تمام آزاد اور مستقل ممالک کي ترقي ميں رکاوٹيں کھڑي کر رہے ہيں۔

خبر کا کوڈ: 33060 - 

منگل 13 December 2011 - 18:45

ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج (منگل) شام روس کے نئے سفير لوون جاگارين سے ملاقات کے دوران تہران اور ماسکو کے درميان روابط کو ايڈيل، وسيع اور رو بہ گسترش قرار ہوئے کہا کہ موجودہ حالات کا تقاضا يہ ہے کہ دونوں ممالک کو آپس ميں دوطرفہ اور بين لاقوامي روابط ميں مزيد استحکام دينا چاہيے،انہوں نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران نے پہلے سے زيادہ ايران اور روس کے درميان روابط ميں گسترش کا استقبال کيا ہے، اور وہ اس سلسلےميں اٹھائے گئے تمام اقدامات کي حمايت کرتاہے۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ تعجب يہ ہے کہ وہ لوگ جو اپنے عوام کيلئے کسي احترام کے قائل نہيں ہيں وہ ديگر ممالک کےعوام کيلئے انساني حقوق، ڈيموکرسي اور آزادي کا دعويٰ کررہے ہيں، انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جو پيچيدہ طريقوں سے دوسروں کے بنيادي حقوق پائمال کرتے رہتے ہيں اور جنہوں نے چند سياسي پارٹيوں کي شکل ميں آپنے آپ کو دوسرے ممالک کے عوام پر مسلط کيا ہوا ہے ؛ جہاں کہيں انتخابات برگزار ہو رہے ہوں وہ آپنے آپ کو عوامي حقوق کا مدافع ظاہر کرکے انتخابات کو غير قانوني ظاہر کرنے کي کوشش کرتے ہيں اور عوام کو تحريک کرکے طرح طرح مشکلات پيدا کرتے ہيں۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے بين الاقوامي ايٹمي ايجنسي اور اقوامِ متحدہ ميں آمريکا اور اسکے اتحاديوں کا ايران کے خلاف منصوبہ بندي کے مقابلے ميں روسي موقف کو سراہا اور کہا کہ بيشک مستقبل ِ قريب ميں يہ ممالک يہي اقدامات ديگر ممالک مخصوصاً روس کے خلاف اٹھائيں گے، کيونکہ اگر انہيں موقع ديا جائے تو يہ نيٹو افواج کو ممالک کے دارالخلافوں تک لے آئيں گے۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے بوشہر کے ايٹمي مرکز کو تہران اور ماسکو کے درميان تعاون اور ہمکاري کا سنبل اور نمونہ قرار ديتے ہوئے کہا کہ مستقبلِ قريب ميں اس مرکز کا افتتاح دونوں ممالک کے درميان مختلف شعبوں ميں روابط کي تقويت کا پيش خيمہ ثابت ہو گا۔

روس کے نئے سفير نے اس ملاقات ميں ايراني صدر کو اپنا استوار نامہ پيش کرتے ہوئے ايران اور روس کے درميان روابط کو دوستانہ، عميق اور وسيع قرار ديتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک عالمي مسائل ميں يکساں طرزِ فکر رکھتے ہيں اور ہم آيندہ ان ثمر بخش روابط ميں مزيد استحکام چاہتے ہيں۔

خبر کا کوڈ: 33060  

- غیرملکی ملاقاتیں اوردورے