ڈاکٹر احمدي نژاد کا ونزويلا کے چينل " تلہ سور " کو انٹريو: سب سے بڑا اسلحہ برآمد کرنے والے ملک (آمريکا) کا اچانک ڈيموکرسي اور آزادي کي حمايت کا نعرہ مضحکہ خيز ہے
جمعه 14 December 2012 - 11:55
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español

ايراني صدر ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ دشمن کي ہميشہ يہ آرزو رہي ہے کہ وہ ايران کو دباو ميں رکھےلہذا وہ اس مقصد تک پہنچنے کيلئے اپنے تمام تر وسائل کو بہ روئے کار لا رہے ہيں، انہوں نے کہا کہ اگرچہ دشمن کي ہميشہ کوشش رہي ہے کہ کسي طرح سے اسلامي جمہوريہ ايران کو نقصان پہنچايا جا سکے ليکن انہيں کھبي ايسا موقع نہيں ديا جائے گا۔

ڈاکٹر احمدي نژاد کا ونزويلا کے چينل "

تلہ سور " کو انٹريو: سب سے بڑا اسلحہ برآمد کرنے والے ملک (آمريکا) کا اچانک ڈيموکرسي اور آزادي کي حمايت کا نعرہ مضحکہ خيز ہے

ايراني صدر ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ دشمن کي ہميشہ يہ آرزو رہي ہے کہ وہ ايران کو دباو ميں رکھےلہذا وہ اس مقصد تک پہنچنے کيلئے اپنے تمام تر وسائل کو بہ روئے کار لا رہے ہيں، انہوں نے کہا کہ اگرچہ دشمن کي ہميشہ کوشش رہي ہے کہ کسي طرح سے اسلامي جمہوريہ ايران کو نقصان پہنچايا جا سکے ليکن انہيں کھبي ايسا موقع نہيں ديا جائے گا۔

خبر کا کوڈ: 32972 - 

منگل 13 December 2011 - 11:09



ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج (منگل) صبح ونزويلا کے بين الاقوامي چينل " تلہ سور " جس کے نشريات پورے آمريکا ميں نشر ہو رہے ہيں؛ کے ساتھ گفتگو ميں بين الاقوامي ايٹمي ايجنسي کي حاليہ گزارش اور آمريکا و يورپي ممالک کا ايران پر ايٹمي اسلحہ بنانے کےالزام کے ردِ عمل ميں کہا کہ ان ممالک کا ايران کے ساتھ دشمني اور عناد کوئي نئي بات نہيں ہے، يہ لوگ مختلف بہانوں سے آزاد اور مستقل ممالک کي مخالفت کا اظہار کرتے رہتے ہيں، انہوں نے کہا کہ استعماري طاقتيں گذشتہ32 سالوں سے ايران کي مخالفت پر تلے ہوئے ہيں اور بين الاقوامي ايٹمي ايجنسي کا حاليہ گزارش ايک سياسي مسئلہ ہے چونکہ وہ اس بات کيلئے کوئي مدرک اور شواہد نہيں رکھتے لہذا اس بے بنياد الزامات کے پس منظر ميں جو بعض ممالک ہمارے ساتھ تعاون کي بجائے مخالفت کر رہے ہيں اسکا ہميں کوئي دکھ نہيں ہے۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ ايران کو ايٹم بم بنانے کي ضرورت نہيں ہے ، تعجب کي بات يہ ہے کہ ايران پر لوگ ايٹمي اسلحہ بنانے کا الزام عائد کر رہے ہيں جن کے پاس خود يہ اسلحہ موجود ہے اور بارہا اسکا استعمال بھي کر چکے ہيں ، انہوں نے کہا کہ بين الاقوامي ايٹمي ايجنسي کي حاليہ گزارش ايک سياسي مسئلہ ہے اسکا حقوق کے ساتھ کوئي تعلق نہيں ہے، اگرچہ اس بات ميں کوئي شک نہيں ہے يہ گزارش ايران پر مزيد دباو بڑھانے کيلئے مطرح ہو ا ہے ليکن ايراني قوم سخت اور کھٹن حالات ميں زندگي گزارنے کا ہنر خوب جانتے ہيں۔

کوئي بھي ايران کے پر حملہ کرنے کا حکم جاري کرنے کي جرات نہيں کر سکتا

ڈاکٹر احمدي نژاد نے مزيد کہا استعمار کي کوشش رہي ہے کہ کسي طرح سے اسلامي جمہوريہ ايران کو نقصان پہنچايا جا سکےليکن کھبي انہيں ايسا موقع نہيں ديا جائے گا، انہوں نے آمريکا کا بغير پائلٹ والا پيشرفتہ جہاز کو قابو ميں لانے کي ايراني ٹيکنالوجي کے حوالے سے کہا کہ آمريکا نے خود تو اس جہاز کو ايران کے حوالے نہيں کيا، وہ لوگ جو اس قسم کے پيشرفتہ جہاز کو مہار کر سکتے ہيں وہ بہت کچھ کرنے پر قادر ہيں۔



ڈاکٹر احمدي نژاد نے آمريکا کے اس بيان " کہ اس جہاز کي ٹيکنالوجي چين اور روس کيلئے تو مفيد واقع ہو سکتي ہے ليکن يہ ايران کيلئے بالکل مفيد نہيں ہے" پر تبصرہ ميں کہا کہ اگر آمريکي اس بات پر خوش ہو رہے ہيں تو انہيں خوش ہونے دو انشاء اللہ عنقريب انہيں ايران کي جديد ٹيکنالوجي کا اندازہ ہو جائے گا۔

آزاد اور مستقل ممالک کيلئے ڈيکٹيٹروں کا آزادي اور ڈيموکرسي کي حمايت کا نعرہ قابلِ قبول نہيں

ڈاکٹر احمدي نژاد نے شام کے حوالے سے کہا کہ آمريکا اور اسکے اتحاديوں کا مشرقِ وسطي ٰکے مسائل ميں داخلي آندازي خطے کا بنيادي مشکل ہے، وہ يہ سب کچھ اسرائيل کو خوش کرنے کيلئے کر رہے ہيں، وہ چاہتے ہيں کہ اسرائيل کے خلاف ہمسايہ ممالک کے اتحاد ميں رخنہ ڈالے لہذا وہ خارجہ دباو اور داخلي انتشار کے ذريعہ شام کے حالات خراب کرنے کي کوشش کر رہے ہيں انہوں نے کہا کہ آمريکا اور اسکے اتحاديوں کي جانب سے ڈيموکرسي اور آزادي کا نعرہ جھوٹا ہے کيونکہ ايسے ممالک کا آمريکا سے قريبي روبط ہيں جہاں آج تک کوئي انتخابات برگزار نہيں ہوئے اور دنيا کے تمام ڈيکٹيٹروں کي پشت پناہي آمريکا اور اسکےاتحادي کر رہے ہيں، لہذا اس پس منظر ميں انکي جانب سے آزادي اور ڈيموکرسي کا نعرہ مضحکہ خيز ہے،بھلا يہ بات مضحکہ خيز نہيں کہ ايک طرف سے يہ لوگ آزادي اور ڈيموکرسي کا نعرہ لگا رہے ہيں اور دوسري طرف سے اسلحہ صادر کرنے ولا دنيا کا سب سے بڑا ملک آمريکا ہي ہے؟!

آمريکا کي استعماري پاليسياں حکومت کي تبديلي سے نہ بدل چکي ہيں اور نہ رک گئي ہيں

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ اگر آمريکا واقعي طور پر آزادي کا طرفدار ہے تو کيوں اس نے آپنے عوام سے آزادي چھين لي ہے؟ گذشتہ ايک صدي سے آمريکا ميں ايک عجيب ڈيکٹيٹر شپ حاکم ہے اور دو سياسي پارٹياں 300 ميلين عوام پر حکمراني کر رہے ہيں البتہ ان پارٹيوں کا سياسي طرزِ فکر يکساں ہے جسکي واضح مثال ہمارے سامنے ہے کہ جب جورج ڈبليو بش کو مشرقِ وسطيٰ ميں شکست ہوئي اور اسکے جبران کيلئے باراک اوباما برسرِ اقتدار آئے تو اس نے تمام سابقہ پاليسيوں کو جاري رکھا، لہذا آمريکا کا اچانک آزادي اور ڈيموکرسي کا نعرہ بلند کرنا مضحکہ خيز ہے۔

اسرائيل صفحہ ہستي سے مٹ رہا ہے

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ وہ لوگ اپنے اغراض تک پہنچنے کيلئے دہشت گردي کا سہارا لے رہے ہيں جو فرہنگ اور منطق نہيں رکھتےاور پوري دنيا ميں انہيں نفرت کي نگاہ سے ديکھا جا رہا ہو لہذااس حوالے سے تاريخ ميں اسرائيل سے زيادہ منفورترين ملک نہيں گزرا ہے جس کے پاس منطق اور فرہنگ کا نام و نشان نہيں ہے اور اسرائيل اسلئے تمام آزاد ممالک پر مختلف الزام تراشياں عائد کر رہا ہے کيونکہ وہ بخوبي جانتا ہے کہ اگر جہان پر صحيح معنوں ميں آزادي حاکم ہو تو اسرائيل صفحہ ہستي سے مٹ جائے گا۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے اخر ميں کہا کہ استعماري طاقتيں ممالک ميں مختلف بہانوں سے تفرقہ ڈال کر انہيں تقسيم کرنے کي کوشش کر رہے ہيں جيسے رنگ، نسل اور مذہب کے بہانےسے، کيونکہ جب ممالک اپس ميں اختلاف اور تفرقہ کا شکار نہ ہوں تو وہ آساني سے اپنے استعماري اہداف حاصل نہيں کر سکتے۔

خبر کا کوڈ: 32972  

- انٹرویو کا مکمل متن