صدر مملکت کا امريکي چينل ABC سے انٹرويو: آج کي دنيا کي مشکل امريکي رہنماوں اور سياستدانوں کي متکبرانہ خصلت ہے / علاقائي تبديلياں امريکي قبضے کو پسند کي نگاہ سے نہيں ديکھ رہيں
جمعه 14 December 2012 - 14:00
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español
منتخب خبریں

صدر مملکت جمہوري اسلامي ايران اس نکتے پر زور ديتے ہوئے کہ اگر امريکا اور اس کے اتحادي دوسرے ممالک کے داخلي معاملات ميں دخل اندازي نہ کريں تو علاقائي اور بين الاقوامي مسائل اور تبديلياں بہتر انداز ميں حل ہوں گي، اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے بولے: آج کي دنيا کي مشکل بعض امريکي رہنماوں اور سياستدانوں کي متکبرانہ خصلت اور رويہ ہے جو اپنے آپ کو دنيا کا مالک سمجھتے ہيں اور اسي وجہ سے دوسرے ممالک کے داخلي معاملات ميں دخل اندازي کرتے ہيں۔

صدر مملکت کا امريکي چينل ABC سے انٹرويو:

آج کي دنيا کي مشکل امريکي رہنماوں اور سياستدانوں کي متکبرانہ خصلت ہے / علاقائي تبديلياں امريکي قبضے کو پسند کي نگاہ سے نہيں ديکھ رہيں

صدر مملکت جمہوري اسلامي ايران اس نکتے پر زور ديتے ہوئے کہ اگر امريکا اور اس کے اتحادي دوسرے ممالک کے داخلي معاملات ميں دخل اندازي نہ کريں تو علاقائي اور بين الاقوامي مسائل اور تبديلياں بہتر انداز ميں حل ہوں گي، اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے بولے: آج کي دنيا کي مشکل بعض امريکي رہنماوں اور سياستدانوں کي متکبرانہ خصلت اور رويہ ہے جو اپنے آپ کو دنيا کا مالک سمجھتے ہيں اور اسي وجہ سے دوسرے ممالک کے داخلي معاملات ميں دخل اندازي کرتے ہيں۔

خبر کا کوڈ: 31064 - 

هفته 01 October 2011 - 12:54

ڈاکٹر احمدي نژاد نے نيويارک ميں اقرام متحدہ کے چھياسٹويں اجلاس ميں شرکت کے پہلے روز امريکي چينل ABC سے انٹرويو کے دوران اس سوال کے جواب ميں کہ علاقائي تبديليوں کے بارے ميں جمہوري اسلامي ايران کي تشخيص کيا ہے، کہا: ايران آزادي، عددالت اور آزادانہ حق انتخاب کو تمام اقوام سے متعلق اور ايک انساني حق تصور کرتا ہے اور معتقد ہے کہ حکومتيں اور انکي عوام اپني مشکلات اور مسائل ايک دوسرے کے ساتھ باہمي افہام و تفہيم اور حسن نيت سے بغير دوسروں کي دخل اندازي کے حل کريں۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: دنيا بھر کے ڈيکٹيٹروں کو امريکہ اور بعض مغربي ممالک کي حمايت حاصل ہے اور بنيادي طور پر ڈيکٹيٹرشپ اور سامراج ايک ہي مجموعے سے مربوط اور اقوام کے حقوق کے مخالف عناصر ہيں جسے اب بدلنا ہو گا۔

سوريہ سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب ميں امريکي حکومت کے يمن اور بحرين کے مقابلے ميں سوريہ کے ساتھ متضاد رويہ اختيار کرنے پر اس دوغلي پاليسي پر تنقيد کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ايران کي نظر تمام اقوام کے بارے ميں يکسان ہے اور انصاف اور آزادانہ انتخاب تمام اقوام کا حق ہے۔ حکومتيں اور انکي عوام باہمي افہام و تفہيم سے ضروري اصلاحات کو اپنے ممالک ميں انجام ديں۔ ليکن دوسروں کو قطعا دخل اندازي نہيں کرني چاہيے۔ جبکہ افسوس اس بات کا ہے کہ امريکہ کے حامي بعض ممالک اور گروہ سوريہ ميں اسلحہ بھجوا رہے ہيں، جو نہ فقط مسئلے کا حل نہيں بلکہ حالات کو مذيد خراب کر دے گا۔ ہماري کوشش ہے کہ وہاں سب آپس ميں دوستانہ رابطے برقرار رکھتے ہوئے اپنے مسائل حل کريں اور نيٹو اور دوسروں کي ھر قسم کي بيروني مداخلت کے سخت مخالف ہيں۔

علاقے ميں جو تبديلياں شروع ہوئي ہيں، وہ امريکي قبضے کو پسند کي نگاہ سے نہيں ديکھ رہيں

صدر مملکت نے واضح کيا: اگر امريکہ اور اس کے حامي اس فکر ميں ہيں کہ علاقے ميں تناو اور چپقلش کو ہوا دينا مستقبل ميں ان کے فائدے ميں ہے تو ہي انکي غلط فہمي ہے کيونکہ علاقے ميں جو تبديلياں شروع ہوئي ہيں، وہ امريکي قبضے کو قطعا پسند کي نگاہ سے نہيں ديکھ رہيں۔ لہذا بہتر ہے کہ امريکہ علاقے کے ممالک کي داخلي صورتحال ميں مراخلت نہ کرے۔

ايراني عوام ھر دھمکي کا منہ توڑ اور دو ٹوک جواب دے گي

ڈاکٹر احمدي نژاد نے امريکي وزير دفاع کے دھمکي آميز بيانات کے متعلق سوال پر کہا: امريکہ کئي دہائيوں سے ايراني عوام کے خلاف کوششيں کر رہا ہے اور جو کچھ بھي اس کے بس ميں تھا اس سے گريز نہيں کيا۔ ايراني عوام کے خلاف دھمکي اميز تصور سرے سے ہي غلط فہمي پر مبني ہے کيونکہ ايراني عوام ھر دھمکي کا منہ توڑ اور دو ٹوک جواب دے گي۔



آزاد فلسطيني حکومت کے قيام سے متعلق انہوں نے کہا: ايران آزاد فلسطيني حکومت کے قيام کو پوري فلسطيني سرزمين کي آزادي کي طرف پہلے قدم کے طور پر تسليم کرتا ہے۔ فلسطين اقوام متحدہ کي تشکيل سے پہلے موجود تھا مگر دوسروں نے انکا يہ حق ضائع کيا ہے لہذا امريکہ کي طرف سے اس حکومت کے قيام کي مخالفت اور ايک مصنوعي رجيم کو تسليم کرنے کي شرط لگانا انتہائي ظالمانہ اقدام ہے۔

اسلامي جمہوري ايران کي خارجہ پاليسي تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ اور برادرانہ تعلقات پر استوار ہے

صدر مملکت نے ايران اور امريکہ کے باہمي تعلقات سے متعلق پوچھنے پر کہا: اسلامي جمہوري ايران کي خارجہ پاليسي تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ اور برادرانہ تعلقات پر استوار ہے اور ھر قوم سے تعلق برقرار کرنے کا استقبال کرتے ہيں ليکن يہ بات ذہين ميں رہے کہ امريکہ نے ايران سے خود يک طرفہ طور پر ناطہ توڑا تھا؛ ہماري نظر ميں تناو کي کوئي خاص وجہ نہيں اور اگر کوئي مسئلہ ہے بھي تو وہ بعض امريکي راہنماوں کي دوسروں پر زبردستي اپني پاليسي ٹھونسنے والي سياست کي بدولت ہے اور ايراني عوام اس امريکي متکبرانہ سياست کے مخالف ہيں اور امريکي عوام سے انہيں کوئي شکايت نہيں، اور ھر قسم کي منصفانہ اور باہمي احترام والي شرئط کي موجودگي ميں ہم ھر قسم کي گفتگو کے ليئے تيار ہيں۔

صدر مملکت نے ايران کے ايٹمي بم کي تياري سے متعلق الزام کے بارے ميں اٹھائے گئے سوال کے جواب ميں کہا: اس نوعيت کے دعوئے بعض امريکي اور يورپي سياستدانوں کے ہيں، ايران کے پاس سرے سے ايٹم بم کي تياري کي کوئي دليل ہي نہيں ہے اور اصولي طور پر ہم ايٹمي ہتھياروں کي تياري کے مخالف ہيں اور اسے عاقلانہ اقدام نہيں سمجھتے اور ہماري رائے ميں آج ايٹم بم کي نہ کوئي افاديت ہے اور نہ ہي کوئي استعمال۔

اسي طرح دو امريکي جو غير قانوني طور پر ايران ميں داخل ہوئے تھے کے بارے ميں سوال پر کہا: يہ دو جو غير قانوني طور پر ايران ميں داخل ہوئے تھے کچھ دنوں تک عدالتي کاروائي کے بعد انساني ہمدردي کي بنياد پرآزاد کر ديئے جائيں گے، جبکہ بہت سارے انسان امريکہ اور يورپ ميں بغير عدالتي کاروائي کے انتہائي برے حالات ميں قيد ہيں اور کوئي نہ ان سے ہمدردي کرتا ہے اور نہ ان کے حقوق پر آواز بلند کرتا ہے، حتي کئي ايراني شہري امريکي جيلوں ميں کسم پرسي کي حالت ميں قيد ہيں۔

خبر کا کوڈ: 31064  

- غیرملکی دورے