صدر مملکت کا واشنگٹن پوسٹ کے ساتھ انٹرويو: اقوام کے ساتھ امريکي حکومت کا رويہ معاندانہ ہے۔
بد 13 February 2013 - 11:03
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español
منتخب خبریں

صدر مملکت نے اس وضاحت کے ساتھ کہ ايران اور امريکہ اس شرط پر بہت سے معاملات جيسے افغانستان ميں امن و امان، منشيات کے مقابلے، دنيا سے ايٹمي اسلحے کے خاتمے اور عالمي اقتصادي مسائل کي اصلاح ميں ايک دوسرے سے تعاون کر سکتے ہيں۔ اگر امريکي حکومت يہ ماننے پر تيار ہو جائے کہ ايران اور دوسري اقوام کے خلاف اقدام نہ کرے اور کہا: افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ديگر اقوا کے ساتھ امريکي حکومت کا رويہ معاندانہ ہے۔

صدر مملکت کا واشنگٹن پوسٹ کے ساتھ انٹرويو:

اقوام کے ساتھ امريکي حکومت کا رويہ معاندانہ ہے۔

صدر مملکت نے اس وضاحت کے ساتھ کہ ايران اور امريکہ اس شرط پر بہت سے معاملات جيسے افغانستان ميں امن و امان، منشيات کے مقابلے، دنيا سے ايٹمي اسلحے کے خاتمے اور عالمي اقتصادي مسائل کي اصلاح ميں ايک دوسرے سے تعاون کر سکتے ہيں۔ اگر امريکي حکومت يہ ماننے پر تيار ہو جائے کہ ايران اور دوسري اقوام کے خلاف اقدام نہ کرے اور کہا: افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ديگر اقوا کے ساتھ امريکي حکومت کا رويہ معاندانہ ہے۔

خبر کا کوڈ: 31062 - 

هفته 01 October 2011 - 15:35

ڈاکٹر محمود احمد نژاد نے واشنگٹن پوسٹ سے انٹرويو ميں بين الاقوامي ايٹمي انرجي ايجنسي (IAEA) کي تازہ ترين رپورٹ ميں ايران پر ايٹمي اسلحہ کي تياري کے الزامات کے بارے ميں سؤال کے جواب ميں کہا: يہ ايران کے ليے کوئي نئي بات نہيں ہے يہ تمام الزامات امريکي حکومت نے اس ايجنسي کے حوالے کيے ہيں اور اگر ايٹمي ايجنسي قانون کے مطابق عمل کرے تو اسے ان الزامات پر توجہ نہيں ديني چاہيے کيونکہ ايجنسي قوانين کے تحت کسي بھي عضو حکومت کو ديگر اعضاء پر الزامات لگانے کا حق حاصل نہيں۔

اس سلسلے ميں انہوں نے مزيد کہا: ايجنسي نے اسلامي جمہوريہ سے ۶ بنيادي سؤال کيے تھے جن کا ہم نے تسلي بخش جواب ديا تھا اور جس کي خود ايجنسي نے تائيد کي تھي لہٰذا ايجنسي کو امريکي ايجنٹ کے طور پر کام نہيں کرنا چاہيے اس طرح وہ اپني ساکھ کھو دے گي۔

جبکہ ايٹمي ايندھن کي تياري سے متعلق ايک سؤال پر کہ بعض امريکي ماہرين اور لوگوں کا خيال ہے کہ ايران کو اس ايندھن کي ضرورت نہيں اور وہ ايٹمي بم بنانے کي تگ و دو ميں ہے کہا: ميرے خيال ميں يہ دعويٰ امريکي سياستدانوں کا ہے کيونکہ نہ امريکي عوام کو ايران سے کوئي مسئلہ ہے اور نہ ہي ايراني عوام کا امريکي عوام سے کسي قسم کا ٹکراؤ ہے۔ يہ دعويٰ مٹھي بھر امريکي سياستدانوں کا ہے۔ ہميں صرف بوشھر کے ايٹمي بجلي گھر کے ليے سالانہ ۳۰ ٹن ايندھن کي ضرورت ہے جبکہ ہماري سالانہ پيداوار فقط ۳ ٹن ہے اور سالانہ ۸۰۰۰ افراد کے ليے دوائيں استعمال کرتے ہيں جو ہميں تہيہ کرنے کي ضرورت ہے۔ ساتھ ہي ہميں ۲۰ ھزار ميگاواٹ بجلي پيدا کرنے کے ليے 32 ايٹمي بجلي گھروں کي ضرورت ہے اور ان ميں سے اب تک صرف ايک تعمير کي گئي ہے اور باقيوں کي ابھي منصوبہ بندي کي جارہي ہے۔

ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے اس سؤال پر کہ کيا ممکن ہے کہ اسلامي جمہوريہ ايران لگائي جانے والي پانديوں کي خاطر يورنيم کي افزادگي کي سطح ميں تبديلي انجام دے جواباً کہا: ہميں اپني بجلي کي پيداوار کے ليے 305 فيصدافزادہ يورنيم کي ضرورت ہے ہم بنا رہے ہيں جبکہ ہميں دواؤں کي پيداوار کے ريئکٹر (Reactor) کے ليے 20 فيصد افزودہ يورنيم کي ضرورت ہے اور قانوناً جن ممالک کو ہميں اس رئيکٹر کے ليے ايندھن فراہم کرنا چاہيے تھا ہم پر ايسي شرائط مسلط کر رہے ہيں کہ ہميں يقين ہو گيا ہے کہ وہ ہميں يہ ايندھن فراہم نہيں کريں گے۔ لہٰذا اس کي تياري بھي ہم نے خود شروع کر دي ہے اور جب بھي ہميں يہ ايندھن فراہم کيا گيا ہم يہ 20 فيصدافزودہ ايندھن بنانا بند کر ديں گے۔

جبکہ جو پابندياں ہم پر لگائي گئي ہيں اس کي ہمارے نزديک کوئي وقت نہيں بلکہ ان پابنديوں نے ہميں خود کفايي کي طرف نزديک کر ديا ہے اور آج ہم پر پابندياں لگانے والے اقتصادي بحران کا شکار ہيں جس کسي نے بھي ايران سے اقتصادي ناطہ توڑا ہے اپنا نقصان کيا ہے اور ايک بڑي اقتصادي مارکيٹ سے اپنے آپ کو محروم کيا ہے اور ہم سے اقتصادي تعاون کرنے والوں کو فائدہ ہوا ہے۔

صدر مملکت نے اس استسفار پر کہ اس مقدار کي افزودگي ايندھن کي ضروريات سے زيادہ ہے اور ايٹمي ہتھياروں کي تياري کي خاطر ہے کہا: ايران اسلامي کو ايٹمي ہتھيار اگر بنانے ہوئے تو اتني جرأت ہے کہ اس کا اعلان بھي کر سکے مگر يہ ہمارے عقيدے کے خلاف ہے اور دوسري بات جن ممالک کے پاس ايٹمي ہتھيار ہيں کيا وہ اس کا استعمال بھي کر سکتے ہيں کيا روس کو اس کے ايٹمي ہتھيار اس کي شکست و ريخت کو روک پائے تھے کيا امريکي ايٹمي ہتھياروں نے اسے عراق اور افغانستان ميں کاميابي عطا کي ہے کيا اسرائيلي ايٹمي ہتھياراسے لبنان اور غزہ ميں شکست سے بچا پائے ہيں۔ آج ايٹمي ہتھيار ان کے بنانے والوں کے ليے سوائے ان ہتھياروں کي حفاطت کے خرچ اور مشکلات کے کسي اور فائدے کا باعث نہيں ہيں۔ آج جتنا خرچہ امريکي حکومت اپنے ايٹمي اثاثوں کي حفاظت اور ان کي رکھوالي پر کر رہي ہے اگر اپني عوام کي صحت اور بے روزگاري پر خرچ کرتي تو اپني کئي مشکلات سے چھٹکارہ پا جاتي۔ آج صرف سياسي اور ثقافتي عقب ماندہ افراد ايٹمي ہتھياروں کي تياري ميں مصروف ہيں۔ اور يہ تمام الزامات ايراني عوام پر امريکي حکومت اس ڈکٹيٹر کي جس کي لمبے عرصے تک امريکہ نے حمايت کي تھي کے جانے کے بعد ما سوائے بہانوں کے کوئي حقيقت نہيں رکھتے۔

ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے حکومت اور نظام اسلامي جمہوريہ ايران کي صيہوني رجيم سے مستقل دشمني کے جواب ميں کہا: اگر کوئي ناجائز قبضے، قتل، حملے اور تباہي کي مزمت کرے تو کيا اس کا معني اشتغال انگيزي ہے؟ کيا صيہوني حکومت کا اس کے علاوہ اس علاقے ميں کوئي اور کام بھي ہے؟ اس رجيم نے اس سرزمين پر رہنے والے فلسطينيوں کي زندگي اجيرن کر رکھي ہے اور اس علاقے ميں کتني چھوٹي بڑي جنگوں نے ٹارگٹ کلنگ، قتل و غارت اور دھمکيوں سے امن تباہ کر رکھا ہے۔ سؤال يہ ہے کہ پورے علاقے کي اقوام کي اس رجيم سے مخالفت کے باوجود امريکہ اور اس کے حواري اس ہزار کلوميٹر دور سے کيوں ہميشہ اس کي حمايت کر رہے ہيں۔

انہوں نے مزيد کہا: صيہوني رجيم ايک خطرناک گروہ ہے جو پہلي اور دوسري جنگ عظيم کے پشت پردہ بھي تھا اور دنيا کے جس کونے بھي جنگ چھڑے اس ميں ان کا کردار صاف نظر آتا ہے۔ اور يہ بات ناقابل يقين ہے کہ صيہوني رجيم کي امداد کے ليے30 کروڑ امريکي عوام نے ريفرينڈم کے ذريعے حمايت کي ہے بلکہ ايک حقيقي ريفرينڈم انجام دے کر معلوم کرنا چاہيے کہ کيا واقعاً امريکي عوام اپنے ٹيکسس، دولت اور حيثيت کو انسان کش صيہوني کي حمايت ميں خرچ کرنے کي حامي ہے يا نہيں؟ انہوں نے کہا: ہم قتل و غارت، حملوں اور ناجايز قبضے کے مخالف ہيں اور اگر کوئي انہيں تسليم کرے تو اس کا مطلب يہ ہي ہے کہ وہ عالمي امن کو داو پر لگا رہا ہے۔

اسي طرح فلسطيني حکومت کي تشکيل اور علاقائي اسلامي بيداري کے بارے ميں اظہار خيال کرتے ہوئے کہا: فلسطيني حکومت زمانہ قديم سے موجود تھي اور قابض رجيم اور اس کے حاميوں نے ان کي سرزمين پر بحران کو جنم ديا ہے اگر يہ اس سرزمين کو چھوڑ جائيں تو يہاں کي مشکل حل ہو جائے۔ علاقائي اسلامي بيداري پر انہوں نے کہا: ايراني عوام اس بيداري کے علمبردار ہيں اور ہماري آرزو ہے کہ دنيا بھر کي تمام اقوام بيدار ہوں خاص طور ہر امريکي اور يورپي اقوام کيانکہ ہمارے خيال ميں ان ممالک کي عوام وہاں کے حکمرانوں کي غلطيوں کي وجہ سے مشکلات کا شکار ہيں۔

اسي طرح يورپي اقتصادي بحران پر انہوں ے کہا: اس بحران ميں يورپي اور امريکي عوام کا کوئي قصور نہيں بلکہ يہ چند سرمايہ داروں کي ہوس کي وجہ سے ان پر ظلم ہو رہا ہے اور لندن اور پيرس ميں اس ظلم پر اعتراض کرنے والوں کے ساتھ انتہائي شرمناک سلوک کيا جاتا ہے۔ ہميں اميد ہے کہ تمام اقوام کو صحيح معنوں ميں آزادي اور انصاف نصيب ہو البتہ ايراني عوام اس ہدف کے حصول کے ليے اپني تمام کوششون کو بروئے کار لائے ہوئے ہے۔

عراق سے متعلق ايک سؤال پر کہ کئي دانشمندوں کے خيال ميں صدر بش نے عراق ميں صدام کا تختہ الٹ کر اسے ايران کے حوالے کر ديا ہے کہا: پہلي بات تو يہ ہے کہ ہم کسي بھي ملک پر اپنا اثر و رسوخ قائم نہيں کرنا چاہتے ہر قوم کو انتخاب کا حق حاصل ہے اور ايران اور عراق کي عوام کے درميان ايک خاص رابطہ اور دوستانہ تعلق موجود ہے کيونکہ ہم ايک ہي ثقافتي بندھن ميں منسلک ہيں اور دونوں ممالک کي عوام، حکومتوں، پارليمنٹ حتي سياسي پارٹيوں ميں بھي يہ گہرا تعلق برقرار ہے۔ اور اگر صدر بش اس ملک ميں صاف نيت سے آتے تو صدام سے چھٹکارے پر عراقي عوام ان کي شکرگزار رہتي ليکن امريکہ کے سابق صدر نے اپنے خاص مفادات کے حصول کے ليے اس ملک پر لشکر کشي کي تھي جس کا خميازہ آج بھگت رہے ہيں اور اپنے اہداف بھي حاصل نہيں کر پائے۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے ايران کے ليے سوريہ کي اہميت کے اندازے سے متعلق پوچھے گئے سؤال پر کہا: اسلامي جمہوريہ ايران کے ليے تمام اقوام اور تمام دنيا اور جہاں بھي انسان رہتے ہيں اہميت کے حامل ہيں۔ ہمارے ليے لبنان، ترکي، عراق، سوريہ، افغانستان، پاکستان اور خليج فارس کے اطراف کے ممالک اور علاقے کے تمام ممالک اہميت رکھتے ہيں البتہ سوريہ مزاحمت کي فرنٹ لائين ہے اور ہميشہ اس کي حمايت کرتے ہيں تا کہ حکومت اور عوام کے مسائل باہمي تفاہم سے حل ہوں۔ ہمارا عقيدہ ہے کہ ہر جگہ امريکہ اور يورپ سميت اصلاحات لائي جاني چاہيں اور عدل و انصاف کي ہر جگہ حکمراني ہو کيانکہ اب تک انصاف ہر جگہ پوري طرح نہيں پھيلا اور ہر جگہ اصلاحات کي ضرورت ہے البتہ ہر جگہ اس کا طريقہ کار اہميت رکھتا ہے اور سوريہ کے صدر مملکت نے بھي اپنے ملک ميں اصلاحات کا اعلان کيا ہے اور ہميں اميد ہے وہاں کي حکومت اور عوام بيروني بے جا مداخلت کے بغير ہي باہمي تفاہم سے آزادانہ انتخابات برگزار کر سکيں۔

صدر مملکت نے اسلامي جمہوريہ ايران کے اہم عہدے داروں کے درميان اختلاف سے متعلق ايک سوال پر کہا: اگر ميں يہ توقع رکھوں کہ ميرے تمام ساتھيوں سے سب راضي رہيں تو يہ بے جا توقع ہو گي کيانکہ ايران ميں سب کو آزادي حاصل ہے اور لوگ آزاد ہيں صدر مملکت کو بھي پسند يا ناپسند کريں ايران ميں قانون کي حکمراني ہے اور قانوني حکومت اپنے امور کي انجام دہي ميں مصروف ہيں اور ديگر سياسي گروہ بھي اپني اپن رائے رکھتے ہيں اور حکومت نے کسي کو يہ وعدہ نہيں ديا ہوا کہ اپنے مخالف گروہوں کي رائے پر عمل کرے گي ہر ملک ميں ساسي رقابت ہوتي ہے اور سياسي دباؤ بھي ہر حکومت پر رہتا ہے۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے اپني رہبر معظم سے اختلاف رائے سے متعلق پوچھے گئے سؤال کے جواب ميں کہا: دنيا ميں کہيں بھي ايسے دو آدمي نہيں مليں گے جو ايک دوسرے جيسا سوچتے ہوں ليکن ايران ميں قوانين انتہائي شفاف ہيں اور حدود واضح اور ہم بھي قانون کے تحت عمل کر رہے ہيں۔

جب ان سے دسويں انتخابات کے دو اميدواروں سے متعلق سؤال کيا گيا تو انہوں نے کہا: مجھے ان کي حاليہ صورتحال سے متعلق کچھ معلوم نہيں کيونکہ عدليہ حکومت سے آزاد اور غير جانبدار ہے اور ان کي صورتحال کا اختيار عدليہ کے ہاتھ ميں ہے اگر کسي نے قانون کي خلاف ورزي کي ہو تو قانون کے مطابق اس کے ساتھ سلوک کيا جائے گا۔

خبر کا کوڈ: 31062  

- غیرملکی دورے