صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے نيويارک ميں امريکي يونيورسٹيوں کے اساتذہ اور طلبا سے خطاب ميں کہا : عالمي برادري کو اقوام متحدہ سے يہ توقع ہے کہ دنيا ميں امن و امان قائم کرنے اور دنيا کا نظم و نسق چلانے ميں قوموں کي باقاعدہ شراکت کے لئے موثر کردار ادا کرےـ
بد 13 February 2013 - 11:03
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español
منتخب خبریں

صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہا ہے کہ مشرق وسطي اور شمالي افريقا ميں جاري عوامي تحريکيں بنيادي طور پر حکومت امريکا اور مغرب کے تسلط کے خلاف ہيں -

صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے نيويارک ميں امريکي يونيورسٹيوں کے اساتذہ اور طلبا سے خطاب ميں کہا :

عالمي برادري کو اقوام متحدہ سے يہ توقع ہے کہ دنيا ميں امن و امان قائم کرنے اور دنيا کا نظم و نسق چلانے ميں قوموں کي باقاعدہ شراکت کے لئے موثر کردار ادا کرےـ

صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہا ہے کہ مشرق وسطي اور شمالي افريقا ميں جاري عوامي تحريکيں بنيادي طور پر حکومت امريکا اور مغرب کے تسلط کے خلاف ہيں -

خبر کا کوڈ: 31061 - 

پیر 03 October 2011 - 10:56

صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے نيويارک ميں امريکي يونيورسٹيوں کے اساتذہ اور طلبا سے خطاب ميں کہا ہے کہ حکومت امريکا مشرق وسطي اور شمالي افريقا ميں جاري عوامي تحريکوں کو اغوا کرنے کي کوشش کرسکتي ہے ليکن اس کو معلوم ہونا چاہئے کہ يہ تحريکيں بنيادي طور پر اس کے تسلط کے ہي خلاف ہيں -

انہوں نے کہا کہ ايک اور طوفاني تحريک راستے ميں ہے اور جو واقعات رونما ہورہے ہيں وہ اسي طوفاني تحريک کي علامت ہيں - انہوں نے کہا کہ مشرق وسطي اور شمالي افريقا کي اقوام مغربي حکومتوں کي تسلط پسندي اور زور زبردستي کي پاليسيوں سے تنگ آچکي ہيں اور سرانجام يہ حالات تبديل ہوں گے-

صدر مملکت نے اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي کے اجلاس ميں امريکي صدر باراک اوباما کي تقرير کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امريکي صدر نے دھمکي آميز لہجے ميں کہا ہے کہ فلسطيني قوم کو اپنے حق حاکميت پر اصرار نہيں کرنا چاہئے - صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہا کہ امريکي صدر نے اقوام متحدہ کے منشور کي خلاف ورزي کرتے ہوئے غير قانوني طور پر فلسطينيوں کے حق حاکميت کو غاصب صيہونيوں کے ساتھ مذاکرات سے مشروط کيا ہے اور يقينا اس غير معقول روش سے يہ مسئلہ حل نہيں ہوسکتا-

انہوں نےکہا کہ حکومت ايران کي نظر ميں فلسطيني قوم کا حق ہے کہ پوري سرزمين فلسطين پر اس کي حکومت ہو، جو ہوسکتا ہے کہ آج ممکن نہ ہو لہذا ہم فلسطيني حکومت کے قيام اور اقوام متحدہ سے اس کي منظوري کو اس راہ ميں ايک پشرفت سمجھتے ہيں -

صدر مملکت نے ايران امريکا روابط اور ان کي پيچيدگي کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امريکي حکومت کے روابط صرف ايران سے ہي پيچيدہ نہيں ہيں بلکہ ديگر ملکوں سے بھي اس کے روابط ميں پيچيدگي پائي جاتي ہے - انہوں نے کہا کہ اس کا حل صرف يہ ہے کہ مشترکہ انساني اقدار کي پابندي کي جائے-

صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہا کہ کسي کو بھي يہ حق نہيں ہے کہ وہ خود کو دنيا کا مالک سمجھے بلکہ ہر ايک کو دوسروں کا احترام اوران کے حقوق کو تسليم کرنا چاہئے -

انہوں نے اقوام متحدہ کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کي تشکيل کے بعد توقع کي جارہي تھي کہ اب کوئي، اقوام پر حکم چلانے کي بات نہيں کرے گا مگر يہ توقع پوري نہيں ہوئي بنابريں اس ادارے کي تشکيل کا مقصد ہي پورا نہيں ہوسکا ہے -

انہوں نے اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ اقوام کے درميان روابط کو عدل و انصاف اور باہمي محبت و مہرباني پر استوار ہونا چاہئے ، کہا کہ خلقت انسان کي اساس محبت پر استوار ہے اور انساني حقيقت دوسروں سے محبت و مہرباني کے سائے ميں پنپتي ہے، بنابريں ہم دنيا کے امور چلانے ميں اسي وقت کامياب ہوسکتے ہيں جب بني نوع انسان کي ہر فرد اور تمام اقوام کے روابط محبت و دوستي پر استوار ہوں -

انہوں نے کہا کہ جب تک کچھ لوگ دوسروں پر اپنا تسلط جمانے کي کوشش کريں گے اور اپنے لئے زيادہ حق کے قائل رہيں گے ، اس وقت تک حالات ٹھيک نہيں ہوسکتے-

صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے مشرق وسطي اور شمالي افريقا کے تغيرات کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران تمام ملکوں کے تعلق سے آزادي، انصاف ، اور حق انتخاب کي حمايت کرتا ہے اور اس کا نظريہ يہ ہے کہ کسي بھي حکومت کو دوسرے ملکوں کے امور ميں مداخلت کا حق نہيں ہے-

ايران کے صدر نے کہا کہ جمہوريت بيروني طاقتوں کي مداخلت اور نيٹو کي لشکرکشي سے قائم نہيں ہوسکتي -

انہوں نے کہا کہ تمام ملکوں کے عوام اور سياستدانوں کو چاہئےکہ افہام و تفہيم اور خلوص نيت کے ساتھ اپنے مسائل حل کريں-

صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے ايران کي خارجہ پاليسي کو شفاف قرار ديتے ہوئے کہا کہ ايران کي حمايت اور مخالفت دونوں ہي واضح اور شفاف ہيں اور ايران کسي بھي مسئلے ميں اپنا موقف بيان کرنے ميں کسي سے بھي نہيں ڈرتا-

انہوں نے کہا کہ اگر مغربي ملکوں کے سربراہ يہ سمجھتے ہيں کہ علاقے کے تغيرات ميں مداخلت اور حالات سے غلط فائدہ اٹھاکر اپنا تسلط بحال کرسکتے ہيں تو سخت غلط فہمي کا شکار ہيں کيونکہ عوام، آمروں کے خلاف اٹھے ہيں اور اچھي طرح جانتے ہيں کہ آمروں کا حامي کو ن ہے - صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد کا اقوام متحدہ کي کمزور کارکردگي پر تنقيد کرنا اس عالمي ادارے کے اہم کردار کو نظر انداز کرنے کے معني ميں نہيں ہے بلکہ ايران کا نقطہ نگاہ يہ ہے کہ اقوام متحدہ اور جنرل اسبملي کے ڈھانچے پر نظر ثاني کرنے کي ضرورت ہے اور اس کے سلسلے ميں ايسے فيصلے کئے جائيں جن سے يہ ادارہ دنيا کي تمام انصاف پسند قوموں کي آواز بن جائےـ اسي مقصد کے تحت دنيا بھر سے سربراہان مملکت اس اجلاس ميں شرکت کے لئے نيويارک کا سفر کرتے ہيں ـ

عالمي برادري کو اقوام متحدہ سے يہ توقع ہے کہ دنيا ميں امن و امان قائم کرنے، پيشرفت و ترقي، قوموں کے حقوق کے احترام، غربت، تفريق اور نا انصافي کے خاتمے اور دنيا کا نظم و نسق چلانے ميں قوموں کي باقاعادہ شراکت کے لئے موثر کردار ادا کرےـ جبکہ امريکہ سلامتي کونسل کے بعض ديگر مستقل رکن ممالک عالمي برادري کي اس خواہش کے مقابل کھڑے ہوئے ہيں اور اسي صورت حال کي وجہ سے دنيا ميں متعدد سياسي و اقتصادي بحران اور بد امني جاري ہے-

خبر کا کوڈ: 31061  

- غیرملکی دورے