ڈاکٹر احمدي نژاد نے اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي کے چھياسٹھويں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا : حقيقي آزادي، انصاف اور پائيدار سلامتي سامراجي طاقتوں کي مداخلت اور نيٹو کي لشکرکشي سے قائم نہيں ہوسکتي-
منگل 12 February 2013 - 06:29
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español
منتخب خبریں

اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر جناب محمود احمدي نژاد نے اپنے خطاب ميں کہا کہ حقيقي آزادي، انصاف، انتخاب کا حق، عزت ووقار، فلاح و بہبود اور پائيدار سلامتي تمام اقوام کا حق ہے تاہم يہ تمام اقدار موجودہ بدعنوان عالمي انتظام، سامراجي طاقتوں کي مداخلت يا بندوق کے زور پر حاصل نہيں کي جاسکتيں بلکہ دوسروں کے حقوق کے احترام ، ہمدلي اور تعاون کے ذريعے ہي ان انساني اقدار کو عالمي سماج ميں پائيدار بنايا جاسکتا ہے-

ڈاکٹر احمدي نژاد نے اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي کے چھياسٹھويں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا :

حقيقي آزادي، انصاف اور پائيدار سلامتي سامراجي طاقتوں کي مداخلت اور نيٹو کي لشکرکشي سے قائم نہيں ہوسکتي-

اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر جناب محمود احمدي نژاد نے اپنے خطاب ميں کہا کہ حقيقي آزادي، انصاف، انتخاب کا حق، عزت ووقار، فلاح و بہبود اور پائيدار سلامتي تمام اقوام کا حق ہے تاہم يہ تمام اقدار موجودہ بدعنوان عالمي انتظام، سامراجي طاقتوں کي مداخلت يا بندوق کے زور پر حاصل نہيں کي جاسکتيں بلکہ دوسروں کے حقوق کے احترام ، ہمدلي اور تعاون کے ذريعے ہي ان انساني اقدار کو عالمي سماج ميں پائيدار بنايا جاسکتا ہے-

خبر کا کوڈ: 31060 - 

هفته 01 October 2011 - 16:33

اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر ڈاکٹر احمدي نژاد نے اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي کے چھياسٹھويں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہميں اس بات کا مزيد موقع نہيں دينا چاہيے کہ اقوام متحدہ اپني حقيقي پوزيشن سے جو قوموں کے ارادوں کو عملي جامہ پہنانے سے عبارت ہے گرتي جائے اور عالمي طاقتوں کے ہاتھوں ميں ہتھکنڈے ميں تبديل ہوتي جائے، انہوں نے کہا کہ ہميں چاہيے کہ ہم پائدار امن و سلامتي کے قيام کےلئے منصفانہ طريقوں سے قوموں کي شراکت عمل کا ماحول فراہم کريں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کي سلامتي کونسل کے ڈھانچے کو غير منصفانہ قرار ديتےہوئے کہا کہ حقيقي معني ميں اور مکمل اقوام متحدہ کي تشکيل کے لئے تبديلياں اور اصلاحات بنيادي ضرورت ہے جس پر اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي کو توجہ کرني چاہيے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے قيام کا نظريہ انساني تاريخ کا بہت بڑا کارنامہ ہے ليکن افسوس اس بات کا ہے کہ بين الااقوامي نظام کےمراکز پر قابض قوتيں، عالمي معاشرے کو باہمي افہام و تفہيم اور اجتماعي تعاون کے امکانات سے محروم کرنے کي کوشش کر رہي ہيں-

صدر نے کہا کہ ان تمام باتوں کے باوجود ہميں يقين رکھنا چاہيے کہ دنيا کو حقيقي معنوں ميں مشترکہ انتظام کے ذريعے ہي چلايا جاسکتا ہے-

صدر ڈاکٹرمحمود احمدي نژاد نے اپنے خطاب ميں مزيد کہا کہ حقيقي آزادي، انصاف، انتخاب کا حق، عزت ووقار، فلاح و بہبود اور پائيدار سلامتي تمام اقوام کا حق ہے تاہم يہ تمام اقدار موجودہ بدعنوان عالمي انتظام، سامراجي طاقتوں کي مداخلت يا بندوق کے زور پر حاصل نہيں کي جاسکتيں بلکہ دوسروں کے حقوق کے احترام ، ہمدلي اور تعاون کے ذريعے ہي ان انساني اقدار کو عالمي سماج ميں پائيدار بنايا جاسکتا ہے-

انہوں نے عالمي برادري کو تاکيد کي کہ اس بين الاقوامي ادارے کو چند عالمي طاقتوں کے ہاتھوں ميں کھلونا بننے کي اجازت نہ ديں۔

صدر محمود احمدي نژاد نے کہا کہ دنيا ميں پائدار امن کے قيام کيلئے عادلانہ نظام کے تحت تمام ممالک کے تعاون اور ھمکاري کا زمينہ فراہم کرنے کي ضرورت ہے۔ انہوں نے تاکيد کي کہ مشترکہ عالمي مديريت کو صحيح معنوں ميں تحقق بخشنا چاہئے اور عالمي سطح پر فيصلوں کي بنياد مسلمہ بين الاقوامي قوانين، امن، آزادي اور عدالت کي بنياد پر ہوني چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو اس حقيقت کا اعتراف کر لينا چاہئے کہ عالمي سطح پر مشترکہ منيجمنٹ کے علاوہ موجودہ مسائل اور ظلم و ستم کے خاتمے کا کوئي راستہ موجود نہيں، يہي بشريت کي سعادت کا واحد راستہ اور ناقابل انکار حقيقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب اس حقيقت کو جانتے ہيں ليکن اس کو جان لينا ہي کافي نہيں بلکہ اس پر ايمان لانے کي ضرورت ہے۔

صدر محمود احمدي نژاد نے کہا کہ اقوام متحدہ کي تشکيل کا مقصد ہي عالمي فيصلوں ميں تمام اقوام عالم کي شرکت کو يقيني بنانا تھا لہذا مشترکہ عالمي منيجمنٹ تمام اقوام کا مسلمہ حق ہے اور ہميں اپني قوموں کا نمائندہ ہونے کے ناطے اس حق کا بھرپور دفاع کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عالمي مشترکہ منيجمنٹ کے تحقق کي راہ ميں سب سے بڑي رکاوٹ اقوام متحدہ کي سلامتي کونسل کا ناعادلانہ نظام ہے جسے تبديل کرنے کي ضرورت ہے۔ جناب احمدي نژاد نے کہا کہ ميں نے گذشتہ سال بھي يہ مشورہ ديا تھا کہ آئندہ دس سالوں کو "مشترکہ عالمي منيجمنٹ" کا عشرہ قرار ديا جائے تاکہ ايک متحد دنيا کو تحقق بخشا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال بھي ميں اپني اس پيشکش کو دہراوں گا اور مجھے يقين ہے کہ عالمي سطح پر تعاون اور ھمکاري سے ہي روشن مستقبل کي طرف بڑھا جا سکتا ہے۔

موجودہ ورلڈ آرڈر ظالمانہ اور تمام عالمي مسائل کي جڑ ہے:

اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر جناب محمود احمدي نژاد نے يہ تاکيد کرتے ہوئے کہ آج عالم بشريت اپني انساني فطرت سے بہت دور ہو چکا ہے کہا کہ اسکي بڑي وجہ دنيا پر ظالمانہ بين الاقوامي نظام کي حکمفرمائي ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزيد وضاحت کيلئے چند سوالات کا پيش کرنا ضروري ہے:

وہ کونسے ممالک تھے جو غلام پروري کے سياہ دور ميں افريقہ اور دوسرے مناطق سے کروڑوں انسانوں کو زبردستي امريکہ اور يورپ لے کر آتے تھے؟

4 صديوں تک دردناک استعماري نظام کن ممالک نے مسلط کيا اور اقوام کے تشخص، زبان، ثقافت، صلاحيتوں اور قدرتي وسائل کو کس نے برباد کيا؟

کن ممالک نے پہلي اور دوسري جنگ عظيم کا آغاز کيا جس ميں 7 کروڑ انسان ہلاک اور کروڑوں دوسرے زخمي ہو گئے اور کن ممالک نے کوريا اور ويتنام کي جنگوں کا آغاز کيا؟

کن قوتوں نے مکاري اور دھوکے کے ساتھ ملت فلسطين اور خطے کي اقوام پر اسرائيل کي صہيونيستي رژيم، 60 سال سے زيادہ جنگ، جلاوطني، دہشت گردي اور قتل و غارت کو تحميل کيا؟

کن افراد نے دسيوں سال لاطيني امريکہ، افريقہ اور ايشيا کے ممالک پر ڈکٹيٹرز کي حمايت اور پشت پناہي کي؟

کس ملک نے بے دفاع انسانوں کے خلاف ايٹم بم کا استعمال کيا اور آج بھي ہزاروں ايٹم بم بنا کر ذخيرہ کئے ہوئے ہے؟

کن ممالک کي معيشت اسلحے کي فروخت اور اس کي مانگ کيلئے جنگوں کے آغاز سے وابستہ ہے؟

کن ممالک نے نائن اليون کے مشکوک واقعے کے بہانے اور اصل ميں مشرق وسطي اور اسکے تيل کے ذخائر پر قبضہ کي خاطر افغانستان اور عراق پر فوجي قبضہ کيا اور کروڑوں افراد کي ہلاکت اور جلاوطني کا باعث بنے؟

کونسے ممالک سالانہ 1000 ارب ڈالر يعني دنيا کے تمام ممالک سے زيادہ فوجي بجٹ کے حامل ہيں اور قوموں کو ہميشہ فوجي حملوں کي دھمکي ديتے رہتے ہيں؟

کونسے ممالک دنيا کي اقوام پر کئي ہزار ٹن بم گرانے کيلئے تو ہر وقت تيار ہيں ليکن انہيں صوماليہ کے قحط زدہ ملک کي مدد کرنے کيلئے کئي مہينوں کا وقت درکار ہے؟

آيا يہ ممالک اور قوتيں دنيا کي مديريت کرنے کي صلاحيت رکھتي ہيں؟ يا خود کو انساني حقوق، آزادي اور جمہوريت کا مدافع کہلانے کي حقدار ہيں؟۔ کيا جمہوريت اور آزادي کے پھول نيٹو فورسز کے ميزائلوں اور بموں سے باہر نکليں گے؟۔

صدر اسلامي جمہوريہ ايران نے 11 ستمبر 2001 کے دلخراش حادثے کے پس پردہ عوامل کو برملا کرنے کي ضرورت پر زور ديتے ہوئے کہا کہ آج دنيا کي آزاد اقوام اور حکومتيں حتي امريکي قوم نائن اليون کي آزادانہ تحقيقات کي خواہاں ہيں تاکہ اسکے پس پردہ حقائق واضح ہو سکيں۔ انہوں نے کہا کہ نائن اليون کے بارے ميں سوال کرنے والوں کو فوجي حملے اور اقتصادي پابنديوں کي دھمکياں دي جاتي ہيں۔

صدر محمود احمدي نژاد نے کہا امريکي حکومت نے 11 ستمبر کے واقعے کي تحقيق کرنے کي بجائے اس حادثے کے اصلي ملزم کو قتل کر کے اسکي لاش کو سمندر ميں بہا ديا، آيا اسکو عدالت کے کٹہرے ميں لانے کي ضرورت نہ تھي؟، آيا دہشت گرد افراد کو نيويارک کے ٹاورز پر حملہ کرنے ميں مدد دينے والے افراد کي نشاندہي کي ضرورت نہ تھي؟، نائن اليون کے اصلي ملزم کے خلاف عدالتي کاروائي کے ذريعے خطے کي اقوام پر جنگ مسلط کئے جانے کے حقيقي ذمہ داروں کو کيوں واضح نہيں کيا گيا؟، کيا ايسي معلومات کا چکر تھا جنکا خفيہ رکھا جانا ضروري تھا؟۔

صدر مملکت نے اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي کے اجلاس ميں امريکي صدر باراک اوباما کي تقرير کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امريکي صدر نے دھمکي آميز لہجے ميں کہا ہے کہ فلسطيني قوم کو اپنے حق حاکميت پر اصرار نہيں کرنا چاہئے - صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہا کہ امريکي صدر نے اقوام متحدہ کے منشور کي خلاف ورزي کرتے ہوئے غير قانوني طور پر فلسطينيوں کے حق حاکميت کو غاصب صيہونيوں کے ساتھ مذاکرات سے مشروط کيا ہے اور يقينا اس غير معقول روش سے يہ مسئلہ حل نہيں ہوسکتا-

انہوں نےکہا کہ حکومت ايران کي نظر ميں فلسطيني قوم کا حق ہے کہ پوري سرزمين فلسطين پر اس کي حکومت ہو، جو ہوسکتا ہے کہ آج ممکن نہ ہو لہذا ہم فلسطيني حکومت کے قيام اور اقوام متحدہ سے اس کي منظوري کو اس راہ ميں ايک پشرفت سمجھتے ہيں -

صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہا کہ کسي کو بھي يہ حق نہيں ہے کہ وہ خود کو دنيا کا مالک سمجھے بلکہ ہر ايک کو دوسروں کا احترام اوران کے حقوق کو تسليم کرنا چاہئے -

انہوں نے اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ اقوام کے درميان روابط کو عدل و انصاف اور باہمي محبت و مہرباني پر استوار ہونا چاہئے ، کہا کہ خلقت انسان کي اساس محبت پر استوار ہے اور انساني حقيقت دوسروں سے محبت و مہرباني کے سائے ميں پنپتي ہے، بنابريں ہم دنيا کے امور چلانے ميں اسي وقت کامياب ہوسکتے ہيں جب بني نوع انسان کي ہر فرد اور تمام اقوام کے روابط محبت و دوستي پر استوار ہوں -

انہوں نے کہا کہ جب تک کچھ لوگ دوسروں پر اپنا تسلط جمانے کي کوشش کريں گے اور اپنے لئے زيادہ حق کے قائل رہيں گے ، اس وقت تک حالات ٹھيک نہيں ہوسکتے-

صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے مشرق وسطي اور شمالي افريقا کے تغيرات کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران تمام ملکوں کے تعلق سے آزادي، انصاف ، اور حق انتخاب کي حمايت کرتا ہے اور اس کا نظريہ يہ ہے کہ کسي بھي حکومت کو دوسرے ملکوں کے امور ميں مداخلت کا حق نہيں ہے-

ايران کے صدر نے کہا کہ جمہوريت بيروني طاقتوں کي مداخلت اور نيٹو کي لشکرکشي سے قائم نہيں ہوسکتي - انہوں نے کہا کہ تمام ملکوں کے عوام اور سياستدانوں کو چاہئےکہ افہام و تفہيم اور خلوص نيت کے ساتھ اپنے مسائل حل کريں-

صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے ايران کي خارجہ پاليسي کو شفاف قرار ديتے ہوئے کہا کہ ايران کي حمايت اور مخالفت دونوں ہي واضح اور شفاف ہيں اور ايران کسي بھي مسئلے ميں اپنا موقف بيان کرنے ميں کسي سے بھي نہيں ڈرتا-

انہوں نے کہا کہ اگر مغربي ملکوں کے سربراہ يہ سمجھتے ہيں کہ علاقے کے تغيرات ميں مداخلت اور حالات سے غلط فائدہ اٹھاکر اپنا تسلط بحال کرسکتے ہيں تو سخت غلط فہمي کا شکار ہيں کيونکہ عوام، آمروں کے خلاف اٹھے ہيں اور اچھي طرح جانتے ہيں کہ آمروں کا حامي کون ہے- آج پوري دنيا، عالم اسلام ، ايشياء بالخصوص امريکہ اور يورپ ميں قوميں بيدار ہو چکي ہيں اور وہ عالمي سطح پر عدل و انصاف کے نفاذ کا مطالبہ کررہي ہيں۔

صدر اسلامي جمہوريہ ايران نے کہا کہ عالم بشريت کا مستقبل انتہائي روشن ہے جو انشاءاللہ بہت جلد انبياء و اولياء کے حقيقي وارث اور نسل پاک پيغمبر اکرم ص، منجي عالم بشريت اور موعود امم حضرت مہدي عج کے ظہور سے تشکيل پائے گا۔ انسان کامل کے ظہور کے ذريعے جو تمام انسانوں کا حقيقي اور سچا عاشق ہے عالمي مثالي معاشرے کي تشکيل خداوند متعال کا پکا وعدہ ہے۔

جناب محمود احمدي نژاد نے کہا کہ حضرت مہدي عج حضرت عيسي عليہ السلام کے ساتھ تشريف لائيں گے اور صالح، آزادي خواہ اور عدالت خواہ پيروکاروں کے ذريعے ظلم کو جڑ سے اکھاڑ پھينکيں گے اور انسانوں کي علمي سطح کو بلند کر کے امن، عدالت، آزادي اور عشق کو پوري دنيا ميں پھيلا ديں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج عالمي اقوام کي انساني فطرت بيدار ہو چکي ہے اور اب وہ مزيد ظلم، تبعيض اور تحقير کو برداشت نہيں کريں گي۔

خبر کا کوڈ: 31060  

- غیرملکی دورے