اسلامی جمہوری ایران کے صدر مملکت کی ویب سائیٹ - مصر سے واپسي کے بعد صدر احمدي نژاد کي تہران ميں صحافيوں سے بات چيت: مصر ايران کے ساتھ تعلقات کو فروغ دينا چاہتا ہے-<br />

اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر نے اپنے دورہ مصر کو دونوں ملکوں کے تعلقات ميں ايک اہم تبديلي قرار ديا ہے اور کہا ہے کہ ايران اور مصر کے تعلقات ايک اہم موڑ پر ہيں اور دونوں ملکوں کے درميان روابط کي توسيع ميں کوئي ابہام موجود نہيں ہے۔

مصر سے واپسي کے بعد صدر احمدي نژاد کي تہران ميں صحافيوں سے بات چيت:

مصر ايران کے ساتھ تعلقات کو فروغ دينا چاہتا ہے-

خبر کا کوڈ: 45365 - 2013-02-08 17:54:58
ان خيالات کا اظہار صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج مصر سے واپسي کے بعد تہران ميں صحافيوں سے گفتگو کے دوران کہي-

انہوں نے کہا کہ ان کا دورہ مصر ، مستقبل ميں دونوں قوموں کے تعلقات پر بہت زيادہ اثرات مرتب کرے گا اور دونوں ملکوں کے تعلقات ميں توسيع سے پورے خطے پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔

صدر مملکت نے مصر کے قديم تمدن و تہذيب اور اس کي بے پناہ صلاحيتوں کي سمت اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران اور مصر کو عالمي تبديليوں ميں کردار ادا کرنا چاہئے کيوں کہ دونوں ملک ايک دوسرے کے تعاون سے علاقائي اور اسلامي ملکوں کے سامنے موجود چيلنجوں سے نمٹ سکتے ہيں۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ ايران اور مصر کے درميان تعاون کے فروغ کے لئے بہت اچھے عمل کا آغاز ہو چکا ہے اور ايسا لگتا ہے کہ خيالات اور تجزيہ ، ايک دوسرے سے قريب ہو رہے ہيں - انہوں نے قاہرہ ميں او آئي سي کے سربراہي اجلاس کے کچھ شرکاء سے ملاقات کے بارے ميں کہا کہ يہ ملاقاتيں اور اس کے دوران ہونے والي گفتگو ، اسلامي ملکوں کے بحرانوں کے حل کے لئے رکن ملکوں کے درميان يکجہتي کے تناظر ميں تھي۔

صدر مملکت ڈاکٹر احمدي نژاد نے اجلاس کے موقع پر فلسطين کے بارے ميں ايک خاص نشست کے انعقاد کي سمت اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نشست ، مقبوضہ فلسطيني علاقوں ميں صہيوني کالونيوں ميں توسيع کے عمل کو روکنے کے لئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق ہوا ہے۔

اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر نے کہا کہ مصر کے عوام ايراني قوم کے ساتھ گہرے تعلقات قائم کرنے ميں بے حد دلچسپي رکھتے ہيں اور فلسطين کے حوالے سے بھي دونوں ملکوں کا نقطہ نظر ايک جيسا ہے۔




©1390 رياست جمهوري اسلامي ايران